تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 303 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 303

روحانی خزائن جلد۱۷ ٣٠٣ تحفہ گولڑویہ جس طرح ایک انسان کی دو ٹانگیں ایک دوسری کے مقابل پر ہوتی ہیں ۔ پس اس سے بڑھ کر مماثلت کے کیا معنے ہیں۔ اور یہی حقیقت یہ آیت ظاہر فرماتی ہے کہ اِنَّا اَرْسَلْنَا إِلَيْكُمُ رَسُولًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَا أَرْسَلْنَا إِلَى فِرْعَوْنَ ۔ اور اسی مقام سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس امت کے آخری زمانہ میں مسیح کے مبعوث ہونے کی کیوں ضرورت تھی یعنی یہی ضرورت تھی کہ جبکہ خدا تعالیٰ نے ہمارے نبی صلے اللہ علیہ وسلم کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کا مثیل ٹھہرایا اور نیز سلسلہ خلافت محمدیہ کو سلسلہ خلافت موسویہ کا مثیل مقرر کیا تو جس طرح موسوی سلسلہ موسیٰ سے شروع ہوا اور مسیح پر ختم ہوا یہ سلسلہ بھی ایسا ہی چاہیے تھا۔ سو موسیٰ کی جگہ ہمارے نبی صل اللہ علیہ وسلم مقرر کئے گئے اور پھر آخر سلسلہ میں جو بالمقابل حساب کے رو سے چودھویں صدی تھی ایسا شخص مسیح کے نام سے ظاہر کیا گیا جو قریش میں سے نہیں تھا۔ جس طرح حضرت عیسی بن مریم باپ کے رو سے بنی اسرائیل میں سے نہیں تھا۔ غرض اس امت کے آخری زمانہ میں مسیح کے آنے کی ضرورت یہی ہے کہ تا دونوں سلسلوں کا اول اور آخر با ہم مطابق آجائے اور جیسا کہ ایک سلسلہ چودہ سو برس کی مدت تک موسیٰ سے لے کر (۱۳۳) عیسی بن مریم تک ختم ہوا ایسا ہی دوسرا سلسلہ جو خدا کی کلام میں اس کے مشابہ کھڑا کیا گیا ہے اسی چودہ سو برس کی مدت تک مثیل موسیٰ سے لے کر مثیل عیسی بن مریم تک ختم ہوا ۔ یہی خدا کا ارادہ تھا جس کے ساتھ یہ امر بھی ملحوظ ہے کہ جیسا کہ موسوی سلسلہ کا عیسی اُس صلیب پر فتح یاب ہوا تھا جو یہودیوں نے کھڑا کیا تھا ایسا ہی محمدی سلسلہ کے عیسی کے لئے یہ مقد رتھا کہ وہ اس صلیب پر فتح یاب ہو جو نصاری نے کھڑا کیا ہے ۔ غرض اس اُمت میں بھی پورا مقابلہ دکھلانے کے لئے آخری خلیفہ خلفائے محمد یہ میں سے عیسی کے نام پر آنا ضروری تھا جیسا کہ اول سلسلہ میں موسیٰ کے نام پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے اور جس طرح یہ اسلامی سلسلہ مثیل موسیٰ سے شروع ہوا اسی طرح ضروری تھا کہ مثیل عیسی پر اس کا خاتمہ ہوتا تا یہ دونوں سلسلے یعنی سلسلہ موسویہ اور سلسلہ محمد یہ المزمل: ١٦