تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 302 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 302

روحانی خزائن جلد۱۷ ۳۰۲ تحفہ گولڑ و به بلکہ ان کو ایام ذلت کے بعد سلطنت بھی عطا کرے گا جیسا کہ موسیٰ نے بنی اسرائیل کو چارسو برس کی ذلت کے بعد نجات دی اور پھر سلطنت عطا کی اور پھر اس وحشی قوم کو موسیٰ کی طرح ایک نئی شریعت سے تہذیب یافتہ کرے گا۔ اور وہ قوم بنی اسرائیل کے بھائی ہوں گے۔ اب دیکھو کہ کیسی صفائی اور روشنی سے یہ پیشگوئی سید نا محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں پوری ہوگئی ہے اور ایسی صفائی سے پوری ہو گئی ہے کہ اگر مثلاً ایک ہندو کے سامنے بھی جو عقل سلیم رکھتا ہو یہ دونوں تاریخی واقعات رکھے جائیں یعنی جس طرح موسیٰ نے اپنی قوم کو فرعون کے ہاتھ سے نجات دی اور پھر سلطنت بخشی اور پھر ان وحشی لوگوں کو جو غلامی میں بسر کر رہے تھے ایک شریعت بخشی۔ اور جس طرح سید نا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان غریبوں اور کمزوروں کو جو آپ پر ایمان لائے تھے عرب کے خونخوار درندوں سے نجات دی اور سلطنت عطا کی اور پھر اس وحشیانہ حالت کے بعد ان کو ایک شریعت عطا کی تو بلا شبہ وہ ہندو دونوں واقعات کو ایک ہی رنگ میں سمجھے گا اور ان کی مماثلت کی گواہی دے گا ۔ اور خود ہم جبکہ دیکھتے ہیں کہ کس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے متبعین کو عرب کے خون ریز ظالموں کے ہاتھ سے بچا کر اپنے پروں کے نیچے لے لیا۔ اور پھر ان لوگوں کو جو صد ہا سال سے وحشیانہ حالت میں بسر کر رہے تھے ایک نئی شریعت عطا فرمائی اور بعد ایام ذلت اور غلامی کے سلطنت عطا فرمائی تو بلا تکلف موسیٰ کے زمانہ کا نقشہ ہماری آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے۔ اور پھر ذرہ اور غور کر کے جب حضرت موسیٰ کے سلسلہ خلفا ء پر نظر ڈالتے ہیں جو چودہ سو برس تک دنیا میں قائم رہا تو اس کے مقابل پر سلسلہ محمد یہ بھی اسی مقدار پر ہمیں نظر آتا ہے یہاں تک کہ حضرت موسیٰ کے سلسلہ خلفاء کے آخر میں ایک مسیح ہے جس کا نام عیسی بن مریم ہے ایسا ہی اس سلسلہ کے آخر میں بھی جو مقدار اور مدت میں سلسلہ موسوی کی مانند ہے ایک مسیح دکھائی دیتا ہے اور دونوں سلسلے ایک دوسرے کے مقابل پر ایسے دکھائی دیتے ہیں کہ