تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 280 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 280

روحانی خزائن جلد ۱۷ ۲۸۰ تحفہ گولڑویہ عجب تریہ کہ آخری زمانہ میں وہ بچے دین کے گواہ ہیں ۔ خود مُردہ ہیں مگر زندہ کی گواہی دیتے ہیں ۔ یہ تین چیزیں ہیں یعنی دجال اور یا جوج ماجوج اور دابۃ الارض جو مسیح موعود (۱۲) کے آنے کی علامتیں زمین پر ہیں اور ان کے سوا اور بھی زمینی علامتیں ہیں چنانچہ اونٹ کی کیا تو ایک مفسد کو خلیفہ بنانے لگا ہے؟ اس کے کیا معنے ہیں؟ پس واضح ہو کہ اصل حقیقت یہ ہے کہ جب خدا تعالی نے چھٹے دن آسمانوں کے سات طبقے بنائے اور ہر ایک آسمان کے قضاء وقدر کا انتظام فرمایا اور چھٹا دن جو ستارہ سعد اکبر کا دن ہے یعنی مشتری کا دن قریب الاختتام ہو گیا اور فرشتے جن کو حسب منطوق آيت وأوحى فِي كُلِّ سَمَاءِ أَمْرَهَاے سعد ونحس کا علم دیا گیا تھا۔ اور ان کو معلوم ہو چکا تھا کہ سعد اکبر مشتری ہے اور انہوں نے دیکھا کہ بظاہر اس دن کا حصہ آدم کو نہیں ملا کیونکہ دن میں سے بہت ہی تھوڑا وقت باقی ہے سو یہ خیال گذرا کہ اب پیدائش آدم کی زحل کے وقت میں ہوگی اس کی سرشت میں زحلی تاثیر میں جو قہر اور عذاب وغیرہ ہے رکھی جائیں گی اس لئے اس کا وجود بڑے فتنوں کا موجب ہوگا سو بناء اعتراض کی ایک فلسفی امر تھا نہ یقینی۔ اس لئے قلفی پیرایہ میں انہوں نے انکار کیا اور عرض کیا کہ کیا تو ایسے شخص کو پیدا کرتا ہے جو مفسد اور خونریز ہو گا اور خیال کیا کہ ہم زاہد اور عابد اور تقدیس کرنے والے اور ہر ایک بدی سے پاک ہیں اور نیز ہماری پیدائش مشتری کے وقت میں ہے جو سعد اکبر ہے تب ان کو جواب ملا کہ إلى أعلمُ مَا لا تَعْلَمُونَ کے یعنی تمہیں خبر نہیں کہ میں آدم کو کس وقت بناؤں گا۔ میں مشتری کے وقت کے اُس حصے میں اس کو بناؤں گا جو اس دن کے تمام حصوں میں سے زیادہ مبارک ہے اور اگر چہ جمعہ کا دن سعد ا کبر ہے لیکن اس کے عصر کے وقت کی گھڑی ہر ایک اس کی گھڑی سے سعادت اور برکت میں سبقت لے گئی ہے۔ سو آدم جمعہ کی اخیر گھڑی میں بنایا گیا۔ یعنی عصر کے وقت پیدا کیا گیا اسی وجہ سے احادیث میں ترغیب دی گئی ہے کہ جمعہ کی عصر اور مغرب کے درمیان بہت حم السجدة: ١٣ ٢ البقرة: ٣١