تحفۂ گولڑویہ — Page 281
روحانی خزائن جلد ۱۷ ۲۸۱ تحفہ گولڑویہ سواری اور بار برداری کا اکثر حصہ زمین سے موقوف ہو جانا ایک خاص علامت مسیح کے آجانے کی ہے ۔ حجج الکرامہ میں ابن واطیل سے روایت لکھی ہے کہ میسیج عصر کے وقت آسمان پر سے نازل ہوگا اور عصر سے ہزار کا آخری حصہ مرا دلیا ہے ۔ دیکھو ( ۱۳ ) دعا کرو کہ اس میں ایک گھڑی ہے جس میں دعا قبول ہوتی ہے۔ یہ وہی گھڑی ہے جس کی فرشتوں کو بھی خبر نہ تھی۔ اس گھڑی میں جو پیدا ہو وہ آسمان پر آدم کہلاتا ہے اور ایک بڑے سلسلہ کی اس سے بنیاد پڑتی ہے۔ سو آدم اسی گھڑی میں پیدا کیا گیا۔ اس لئے آدم ثانی یعنی اس عاجز کو یہی گھڑی عطا کی گئی۔ اسی کی طرف براہین احمدیہ کے اس الہام میں اشارہ ہے کہ ینقطع ابائک ویبدء منک دیکھو براہین احمدیہ صفحہ ۴۹۔ اور یہ اتفاقات عجیبہ میں سے ہے کہ یہ عاجز نہ صرف ہزار ششم کے آخری حصہ میں پیدا ہوا جو مشتری سے وہی تعلق رکھتا ہے جو آدم کا روز ششم یعنی اس کا آخری حصہ تعلق رکھتا تھا بلکہ یہ عاجز بروز جمعہ چاند کی چودھویں تاریخ میں پیدا ہوا ہے۔ اس جگہ ایک اور بات بیان کرنے کے لائق ہے کہ اگر یہ سوال ہو کہ جمعہ کی آخری گھڑی جو عصر کے وقت کی ہے جس میں آدم پیدا کیا گیا کیوں ایسی مبارک ہے اور کیوں آدم کی پیدائش کے لئے وہ خاص کی گئی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے تاثیر کواکب کا نظام ایسا رکھا ہے کہ ایک ستارہ اپنے عمل کے آخری حصہ میں دوسرے ستارے کا کچھ اثر لے لیتا ہے جو اس حصے سے ملحق ہو اور اس کے بعد میں آنے والا ہو ۔ اب چونکہ عصر کے وقت سے جب آدم پیدا کیا گیا رات قریب تھی لہذا وہ وقت زحل کی تاثیر سے بھی کچھ حصہ رکھتا تھا اور مشتری سے بھی فیضیاب تھا جو جمالی رنگ کی تاثیرات اپنے اندر رکھتا ہے۔ سوخدا نے آدم کو جمعہ کے دن عصر کے وقت بنایا کیونکہ اس کو منظور تھا کہ آدم کو جلال اور جمال کا جامع بناوے جیسا کہ اس کی طرف یہ آیت اشارہ کرتی ہے کہ خَلَقْتُ بِیدَی یعنی آدم کو میں نے اپنے ص: ۷۶