تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 278 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 278

روحانی خزائن جلد ۱۷ ۲۷۸ تحفہ گولڑویہ پیدا کیا تا آشتی اور صلح کو دنیا میں لاوے۔ تیسری قسم مخلوق کی جو مسیح موعود کی نشانی ہے دابۃ الارض کا خروج ہے اور دابة الارض سے وہ لوگ مراد ہیں جن کی زبانوں پر خدا ہے اور دل بھی عقلی طور پر اس کے ماننے کہ آدم کو پیدا کرے۔ پس اُس نے اُس کو روز ششم یعنی جمعہ کے آخری حصہ میں پیدا کیا کیونکہ جو چیزیں از روئے نص قرآنی چھٹے دن پیدا ہوئی تھیں آدم اُن سب کے بعد میں پیدا کیا گیا۔ اور اس پر دلیل یہ ہے کہ سورۃ حم السجدہ جزو جو میں میں اس بات کی تصریح ہے کہ خدا نے جمعرات اور جمعہ کے دن سات آسمان بنائے اور ہر ایک آسمان کے ساکن کو جو اس آسمان میں رہتا تھا اس آسمان کے متعلق جو امر تھا وہ اس کو سمجھا دیا اور ور لے آسمان کوستاروں کی قندیلیوں سے سجایا اور نیز ان ستاروں کو اس لئے پیدا کیا کہ بہت سے امور حفاظت دنیا کے ان پر موقوف تھے۔ یہ اندازے اُس خدا کے باندھے ہوئے ہیں جو زبر دست اور دانا ہے۔ جن آیات کا یہ ترجمہ ہم نے ہے وہ یہ ہیں ۔ فَقَضْهُنَّ سَبْعَ سَمَوَاتٍ فِي يَوْمَيْنِ وَأَوْحَى فِي كُلِّ سَمَاءِ أَمْرَهَا وَزَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ وَحِفْظًا ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ ويجهو سورة د ختم السجده الجز نمبر ۲۴ ان آیات سے معلوم ہوا کہ آسمانوں کو سات بنانا اور ان کے درمیانی امور کا انتظام کرنا یہ تمام امور باقی ماندہ دو روز میں وقوع میں آئے یعنی جمعرات اور جمعہ میں ۔ اور پہلی آیات جن کو ابھی ہم لکھ چکے ہیں ان سے ثابت ہوتا ہے کہ آدم کا پیدا کرنا آسمانوں کے سات طبقے بنانے کے بعد اور ہر ایک زمینی آسمانی انتظام کے بعد غرض کل مجموعہ عالم کی طیاری کے بعد ظہور میں آیا اور چونکہ یہ تمام کاروبار صرف جمعرات کو ختم نہیں ہوا بلکہ کچھ حصہ جمعہ کا بھی اُس نے لیا جیسا کہ آیت فَقَضُهُنَّ سَبْعَ سَمَوَاتٍ فِي يَوْمَيْنِ سے ظاہر ہے۔ یعنی خدا نے اس آیت میں فی یوم نہیں فرمایا بلکہ یو میں فرمایا۔ اس سے یقینی طور پر سمجھا گیا کہ جمعہ کا پہلا حصہ آسمانوں کے بنانے اور ان کے اندرونی انتظام میں صرف ہوا لہذا نص صریح اس بات کا فیصلہ ہو گیا لکھا ۔ ا حم سجدة ۱۳