تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 277 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 277

روحانی خزائن جلد ۱۷ ۲۷۷ تحفہ گولڑویہ انجن چلیں گے اور آگ سے کام لینے میں وہ بڑی مہارت رکھیں گے اسی وجہ سے اُن کا نام یا جوج ماجوج ہے کیونکہ اجیج آگ کے شعلہ کو کہتے ہیں اور شیطان کے وجود کی بناوٹ بھی آگ سے ہے جیسا کہ آیت خَلَقْتَنِی مِنْ نَارِے سے ظاہر ہے۔ اس لئے قوم یا جوج ماجوج سے اس کو ایک فطرتی مناسبت ہے اسی وجہ سے یہی قوم اس کے اسم اعظم کی تجلی کے لئے اور اس کا مظہر اتم بننے کے لئے موزوں ہے۔ لیکن خدا کے اسم اعظم کی تجلی اعظم جس کا مظہر اتم اسم احمد ہے جیسا کہ ابھی بیان ہو چکا ہے ایسے وجود کو چاہتی تھی جو لڑائی اور خونریزی کا نام نہ لے اور آشتی اور محبت اور صلح کاری کو دنیا میں پھیلا وے۔ ایسا ہی ستارہ مشتری کی تاثیر کا بھی یہی تقاضا تھا که خونریزی کے لئے تلوار نہ پکڑی جائے ایسا ہی ہزار ششم کا آخری حصہ جو جمعیت کا مفہوم اپنے اندر رکھتا ہے اور تمام تفرقوں اور نقصانوں کو درمیان سے اٹھا کر اس مجموعہ مخلوقات کو مع ان کے امام کے دکھلاتا ہے جو نظیر گذشتہ کے لحاظ سے تمام و کمال آشتی اور صلح سے بھرا ہوا ہے یہی چاہتا تھا کہ تفرقہ اور مخالفت مع اپنے لوازم کے جو جنگ و جدل ہے درمیان سے اُٹھ جائے جیسا کہ کتاب اللہ ظاہر کرتی ہے کہ خدا نے زمین اور آسمان کو چھ دن میں پیدا کر کے اور چھٹے دن آدم کو خلعت وجود پہنا کر نظام عالم کو باہم تالیف دے دی اور آدم کو مشتری کے اثر عظیم کے نیچے آیات مندرجہ ذیل سے ظاہر ہوتا ہے کہ آدم چھٹے دن پیدا ہوا اور وہ آیات یہ ہیں: - هُوَ الَّذِى خَلَقَ لَكُمْ مَّا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا ثُمَّ اسْتَوَى إِلَى السَّمَاءِ فَسَؤْهُنَّ سَبْعَ سَمُوتٍ وَ هُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ وَ إِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً قَالُوا اتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِمَاء وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِسُ لك قَالَ إلى أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ في سورة البقره الجزء نمبرا یعنی خدا تعالیٰ نے جو کچھ زمین میں ہے سب پیدا کر کے اور آسمان کو بھی سات طبقے بنا کر غرض اس عالم کی پیدائش سے بکلی فراغت پا کر پھر چاہا الاعراف: ۱۳ ٢ البقرة: ۳۰ ۳۱