تحفۂ گولڑویہ — Page 261
روحانی خزائن جلد ۱۷ ۲۶۱ اور یورپ کا اکثر حصہ قرآنی تبلیغ اور اس کے دلائل سے بے نصیب رہا ہوا تھا بلکہ دور دور ملکوں کے گوشوں میں تو ایسی بے خبری تھی کہ گویا وہ لوگ اسلام کے نام سے بھی ناواقف تھے غرض آیت موصوفہ بالا میں جو فرمایا گیا تھا کہ اے زمین کے باشندو! میں تم سب کی طرف رسول ہوں عملی طور پر اس آیت کے مطابق تمام دنیا کو ان دنوں سے پہلے ہر گز تبلیغ نہیں ہوسکی اور نہ اتمام حجت ہوا کیونکہ وسائل اشاعت موجود نہیں تھے اور نیز زبانوں کی اجنبیت سخت روک تھی اور نیز یہ کہ دلائل حقانیت اسلام کی واقفیت اس پر موقوف تھی کہ اسلامی ہدا یتیں غیر زبانوں میں ترجمہ ہوں اور یا وہ لوگ خود اسلام کی زبان سے واقفیت پیدا کرلیں اور یہ دونوں امر اس وقت غیر ممکن تھے لیکن قرآن شریف کا یہ فرمانا کہ و من بلغ یہ امید دلاتا تھا کہ ابھی اور بہت سے لوگ ہیں جو بھی تبلیغ قرآنی اُن تک نہیں پہنچی ۔ ایسا ہی آیت وَ اخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمُ ، اس بات کو ظاہر کر رہی تھی کہ گو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات میں ہدایت کا ذخیرہ کامل ہو گیا مگر ابھی اشاعت ناقص ہے اور اس آیت میں جو منھم کا لفظ ہے وہ ظاہر کر رہا تھا کہ ایک شخص اس زمانہ میں جو تکمیل اشاعت کے لئے موزوں ہے مبعوث ہو گا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے رنگ میں ہوگا اور اس کے دوست مخلص صحابہ کے رنگ میں ہوں گے۔ غرض اس میں کسی کو متقدمین اور متاخرین میں سے کلام نہیں کہ اسلامی اقبال کے زمانہ کے دو حصے کئے گئے اس تقسیم کو خوب یا درکھو کہ خدا تعالیٰ قرآن کریم میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دو منصب قائم کرتا ہے (۱) ایک کامل کتاب کو پیش کرنے والا جیسا کہ فرمایا کہ يَتْلُوا صُحُفًا مُطَهَّرَةً | فيهَا كُتُبُ قَيْمَةٌ " (۲) دوسری تمام دنیا میں اس کتاب کی اشاعت کرنے والا جیسا کہ فرماتا ہے لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ " اور تکمیل ہدایت کے لئے خدا نے چھٹا دن اختیار فرمایا۔ اس لئے یہ پہلی سنت اللہ ہمیں سمجھاتی ہے کہ تکمیل اشاعت ہدایت کا دن بھی چھٹا ہی ہے اور وہ ہزار ششم ہے اور علماء کرام اور تمام اکا بر ملت اسلام قبول کر چکے ہیں کہ تکمیل اشاعت مسیح موعود کے ذریعہ سے ہوگی ۔ اور اب ثابت ہوا کہ تکمیل اشاعت ہزار ششم میں ہوگی اس لئے نتیجہ یہ نکلا کہ مسیح موعود ہزار ششم میں مبعوث ہو گا۔ منہ ا الجمعة : البينة : ٤،٣ الصف :١٠