تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 243 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 243

روحانی خزائن جلد۱۷ ۲۴۳ الْوُحُوشُ حُشِرَتْ سے مترشح ہو رہا ہے اور تمام دنیا میں تعلقات اور ملاقاتوں کا سلسلہ گرم ہو جانا اور سفر کے ذریعہ سے ایک کا دوسرے کو ملنا سہل ہو جانا جیسا کہ بدیہی طور پر آیت وَإِذَا القَوْسُ زُوجَتْ " سے سمجھا جاتا ہے اور کتابوں اور رسالوں اور خطوط کا ملکوں میں شائع ہو جانا جیسا کہ آیت وَإِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ س سے ظاہر ہو رہا ہے۔ اور علماء کی باطنی حالت کا جو نجوم اسلام میں مکدر ہو جانا جیسا کہ وَإِذَا النُّجُومُ الكَدَرَتْ سے صاف معلوم ہوتا ہے۔ اور بدعتوں اور ضلالتوں اور ہر قسم کے فسق و فجور کا پھیل جانا جیسا کہ آیت اِذَا السَّمَاءُ التَقَتْ سے مفہوم ہوتا ہے۔ یہ تمام علامتیں قرب قیامت کی ظاہر ہو چکی ہیں اور دنیا پر ایک انقلاب عظیم آگیا ہے۔ اور جبکہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ قرب قیامت کا زمانہ ہے جیسا کہ آیت اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَالشَّقَ الْقَمَرُ سے سمجھا جاتا ہے تو پھر یہ زمانہ جس پر تیرہ سو برس اور گزر گیا اس کے آخری زمانہ ہونے میں کس کو کلام ہو سکتا ہے اور علاوہ نصوص صریحہ قرآن شریف اور احادیث کے تمام اکابر اہل کشوف کا اس پر 91 ☆ ہم اس سے پہلے ابو الدرداء کی روایت سے لکھ چکے ہیں کہ قرآن ڈ والوجوہ ہے اور جس شخص نے قرآن شریف کی آیات کو ایک ہی پہلو پر محدود کر دیا اُس نے قرآن کو نہیں سمجھا اور نہ اس کو کتاب اللہ کا تفقہ حاصل ہوا۔ اور اس سے بڑھ کر کوئی جاہل نہیں۔ ہاں ممکن ہے کہ ان آیات میں سے بعض قیامت سے بھی تعلق رکھتی ہوں مگر اوّل مصداق ان آیات کا یہی دنیا ہے کیونکہ یہ آخری زمانہ کی نشانیاں ہیں اور جب دنیا کا سلسلہ ہی لپیٹا گیا تو پھر کس بات کی یہ نشانیاں ہوں گی۔ غالباً اسلام میں ایسے جاہل بھی ہوں گے جو اس راز کو نہیں سمجھے ہوں گے۔ اور خدا تعالیٰ کی پیشگوئیاں جن سے ایمان قوی ہوتا ہے اُن کی نظر میں تمام وہ امور بعد الدنیا ہیں۔ یہ تمام قرآنی پیشگوئیاں پہلی کتابوں میں مسیح موعود کے وقت کی نشانیاں ٹھہرائی گئی ہیں۔ دیکھو دانی ایل باب نمبر ۱۲۔ منہ التكوير : 1 التكوير : ٣٨ التكوير: التكوير :٣ ه الانشقاق: ۲ القمر : ٢