تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 232 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 232

۲۳۲ روحانی خزائن جلد۱۷ (۱) ایک یہ کہ جن قوموں کے قیامت تک غالب اور حکمران رہنے کا وعدہ تھا وہ اس صورت میں غالب اور حکمران نہیں رہیں گے (۲) دوسرے یہ کہ جن دوسری قوموں کے مغلوب ہونے کا وعدہ تھا وہ غالب ہو جائیں گے اور مغلوب نہ رہیں گے اور اگر یہ کہا جائے کہ اگر چہ ان قوموں کی سلطنت اور قوت اور دولت قیامت تک قائم رہے گی اور ہم اس کو قبول کرتے ہیں مگر دجال بھی کسی چھوٹے سے راجہ یا رئیس کی طرح دس ہیں یا سو پچاس گاؤں کا والی اور فرمانروا بن جائے گا تو یہ قول بھی ایسا ہی قرآن شریف کے مخالف ہے جیسا کہ پہلا قول مخالف ہے کیونکہ جب کہ دجال تمام انبیاء علیھم السلام کا اس قدر دشمن ہے کہ ان کو مفتری سمجھتا ہے اور خود خدائی کا دعوی کرتا ہے تو بموجب منطوق آیت کے چاہیے تھا کہ ایک ساعت کے لئے بھی وہ خود سر حاکم نہ بنایا جاتا تا مضمون فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا میں کچھ حرج اور خلل عائد نہ ہوتا۔ ماسوا اس کے جب کہ یہ مانا گیا ہے کہ بجز حرمین شریفین کے ہر ایک ملک میں دجال کی سلطنت قائم ہو جائے گی تو پھر آیت وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلى يَوْمِ الْقِيمَةِ دجال کی عام سلطنت کی صورت میں کیونکر بچی رہ سکتی ہے بلکہ دجالی سلطنت کے قائم ہونے سے تو ماننا پڑتا ہے کہ جو حضرت مسیح کے تابعین کے لئے فوقیت اور غالبیت کا دائمی وعدہ تھا وہ چالیس برس تک دجال کی طرف منتقل ہو جائے گا۔ جو شخص قرآن شریف کو خدا کا کلام اور سچا مانتا ہے وہ تو اس بات کو صریح کفر سمجھے گا کہ ایسا عقیدہ رکھا جائے جس سے خدا تعالی کی پاک کلام کی تکذیب لازم آتی ہے۔ تم آپ ہی فکر کرو اور سوچو کہ جبکہ بموجب آیت وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيِّمَةِ " ہمارا یہ ایمان ہونا چاہیے کہ قیامت تک دولت اور سلطنت مسلمانوں اور عیسائیوں میں قائم رہے گی اور وہ لوگ جو حضرت مسیح کے منکر ہیں وہ کبھی بلا داسلامیہ کے مالک اور بادشاہ نہیں بنیں گے یہاں تک (۸۵) کہ قیامت آجائے گی تو اس صورت میں دجال کی کہاں گنجائش ہے؟ قرآن کو چھوڑنا اور ایسی حدیث کو پکڑنا جو اس کے صریح منطوق کے مخالف ہے اور محض ایک ظنی امر ہے کیا یہی ۲۰۱ آل عمران : ۵۶