تحفۂ گولڑویہ — Page 228
روحانی خزائن جلد ۱۷ ۲۲۸ جو زیر تربیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہے دوسری پچھلوں کی جماعت جو بوجہ تربیت روحانی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جیسا کہ آیت وَاخَرِيْنَ مِنْهُمْ سے سمجھا جاتا ہے صحابہ کے رنگ میں ہیں۔ یہی دو جماعتیں اسلام میں حقیقی طور پر منعم مبہم ہیں اور خدا تعالیٰ کا انعام اُن پر یہ ہے کہ اُن کو انواع اقسام کی غلطیوں اور بدعات سے نجات دی ہے اور ہر ایک قسم کے شرک سے ان کو پاک کیا ہے اور خالص اور روشن تو حید ان کو عطا فرمائی ہے جس میں نہ دجال کو خدا بنایا جاتا ہے اور نہ ابن مریم کو خدائی صفات کا شریک ٹھہرایا جاتا ہے اور اپنے نشانوں سے اس جماعت کے ایمان کو قوی کیا ہے اور اپنے ہاتھ سے ان کو ایک پاک گر وہ بنایا ہے ان میں سے جو لوگ خدا کا الہام پانے والے اور خدا کے خاص جذبہ سے اس کی طرف کھنچے ہوئے ہیں نبیوں کے رنگ میں ہیں اور جو لوگ اُن میں سے بذریعہ اپنے اعمال کے صدق اور اخلاص دکھلانے والے اور ذاتی محبت سے بغیر کسی غرض کے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والے ہیں وہ صدیقوں کے رنگ میں ہیں۔ اور جو لوگ اُن میں سے آخری نعمتوں کی امید پر دکھ اُٹھانے والے اور جزا کے دن کا بچشم دل مشاہدہ کر کے جان کو ہتھیلی پر رکھنے والے ہیں وہ شہیدوں کے رنگ میں ہیں اور جو لوگ اُن میں سے ہر ایک فساد سے باز رہنے والے ہیں وہ صلحاء کے رنگ میں ہیں اور یہی سچے مسلمان کا مقصود بالذات ہے کہ ان مقامات کو طلب کرے اور جب تک حاصل نہ ہوں تب تک طلب اور تلاش میں سُست نہ ہو اور وہ دو گروہ جو ان لوگوں کے مقابل پر بیان فرمائے گئے ہیں وہ مغضوب عليهم اور ضالین ہیں جن سے محفوظ رہنے کے لئے خدا تعالیٰ سے اسی سورۃ فاتحہ میں دعا مانگی گئی ہے اور یہ دعا جس وقت اکٹھی پڑھی جاتی ہے یعنی اس طرح پر کہا جاتا ہے کہ اے خدا ہمیں منعم علیہم میں داخل کر اور مغضوب علیہم اور ضالین سے بچا تو اُس وقت صاف سمجھ آتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے علم میں منعم میہم میں سے ایک وہ فریق ہے جو مغضوب علہیم اور ضالین کا ہم عصر ہے اور جبکہ مغضوب علیھم سے مراد