تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 227 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 227

روحانی خزائن جلد۱۷ ۲۲۷ اس فیج اعوج کے زمانہ کی بدی کیا بیان کرے گا۔ اسی زمانہ کی نسبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ زمین جور اور ظلم سے بھر جائے گی لیکن مسیح موعود کا زمانہ جس سے مراد چودھویں صدی من اوله الی آخرہ ہے اور نیز کچھ اور حصہ زمانہ کا جو خیر القرون سے برابر اور پیج اعوج کے زمانہ سے بالا تر ہے یہ ایک ایسا مبارک زمانہ ہے کہ فضل اور جو دالہی نے مقدر کر رکھا ہے کہ یہ زمانہ پھر لوگوں کو صحابہ کے رنگ میں لائے گا اور آسمان سے کچھ ایسی ہوا چلے گی کہ یہ تہتر فرقے مسلمانوں کے جن میں سے بجز ایک کے سب عارا سلام اور بد نام کنندہ اس پاک چشمہ کے ہیں خود بخود کم ہوتے جائیں گے اور تمام نا پاک فرقے جو اسلام میں مگر اسلام کی حقیقت کے منافی ہیں صفحہ زمین سے نابود ہو کر ایک ہی فرقہ رہ جائے گا جو صحابہ رضی اللہ عنہم کے رنگ پر ہو گا۔ اب ہر ایک انسان سوچ سکتا ہے کہ اس وقت ٹھیک ٹھیک قرآن پر چلنے والے فرقے مسلمانوں کے تمام فرقوں میں سے کس قدر کم ہیں ۔ جو مسلمانوں کے تہتر گروہ میں سے صرف ایک گروہ ہے اور پھر اس میں سے بھی وہ لوگ جو درحقیقت تمام اقسام ہوا اور نفس اور خلق سے منقطع ہو کر محض خدا کے ہو گئے ہیں اور ان کے اعمال اور اقوال اور حرکات اور سکنات اور نیات اور خطرات میں کوئی ملونی خباثت کی باقی نہیں ہے وہ کس قدر اس زمانہ میں کبریت احمر کے حکم میں ہیں۔ غرض تمام مفاسد کی تفصیلات کو زیر نظر رکھ کر بخوبی سمجھ آ سکتا ہے کہ در حقیقت موجودہ حالت اسلام کی کسی خوشی کے لائق نہیں اور وہ بہت سے مفاسد کا مجموعہ ہو رہا ہے۔ اور اسلام کے ہر ایک فرقہ کو ہزار ہا کیڑے بدعات اور افراط اور تفریط اور خطا اور بیبا کی اور شوخی کے چمٹ رہے ہیں اور اسلام میں بہت سے مذہب ایسے پیدا ہو گئے ہیں کہ جو اسلام کا دعویٰ کر کے پھر اسلام کے مقاصد تو حید و تقویٰ و تہذیب اخلاق و اتباع نبی ۸۲ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سخت دشمن ہیں۔ غرض یہ وجوہ ہیں جن کے رو سے اللہ تعالیٰ فرماتا ب ثُلَّةٌ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَثُلَةٌ مِنَ الْآخِرِينَ یعنی ابرارا خیار کے بڑے گروہ جن کے ساتھ بد مذاہب کی آمیزش نہیں وہ دو ہی ہیں ایک پہلوں کی جماعت یعنی صحابہ کی جماعت الواقعة : ۴۰، ۴۱