تحفۂ گولڑویہ — Page 226
روحانی خزائن جلد۱۷ ۲۲۶ جماعت سے مراد ہے اور چونکہ حکم کثرت مقدار اور کمال صفائی انوار پر ہوتا ہے اس لئے اس سورۃ میں انعمت علیھم کے فقرہ سے مراد یہی دونوں گروہ ہیں یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مع اپنی جماعت کے اور مسیح موعود مع اپنی جماعت کے۔ خلاصہ کلام یہ کہ خدا نے ابتدا سے اس اُمت میں دو گروہ ہی تجویز فرمائے ہیں اور انہی کی طرف سورہ فاتحہ کے فقرہ انعمت عليهم میں اشارہ ہے (۱) ایک اولین جو جماعت نبوی ہے (۲) دوسرے آخرین جو جماعت مسیح موعود ہے اور افراد کاملہ جو درمیانی زمانہ میں میں جو فیج اعوج کے نام سے موسوم ہے جو بوجہ اپنی کی مقدار اور کثرت اشرار وفجار و هجوم افواج بد مذاهب و بد عقائد و بداعمال شاذ و نادر کے حکم میں سمجھے گئے گو دوسرے فرقوں کی نسبت درمیانی زمانہ کے صلحاء امت محمدیہ بھی با وجود طوفان بدعات کے ایک دریائے عظیم کی طرح ہیں۔ بہر حال خدا تعالیٰ اور اس کے رسول کا علم جس میں غلطی کو راہ نہیں یہی بتلاتا ہے کہ درمیانی زمانہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے بلکہ تمام خیر القرون کے زمانہ سے بعد میں ہے اور مسیح موعود کے زمانہ سے پہلے ہے یہ زمانہ فیج اعوج کا زمانہ ہے یعنی ٹیٹر تھے گروہ کا زمانہ جس میں خیر نہیں مگر شاذ و نادر ۔ یہی فیج اعوج کا زمانہ ہے جس کی نسبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث ہے ليسوا منی و لست منهم یعنی نہ یہ لوگ مجھ میں سے ہیں اور نہ میں ان میں سے ہوں یعنی مجھے اُن سے کچھ بھی تعلق نہیں۔ یہی زمانہ ہے جس میں ہزار ہا بدعات اور بے شمار نا پاک رسومات اور ہر ایک قسم کے شرک خدا کی ذات اور صفات اور افعال میں اور گروہ در گروه پلید مذہب جو تہتر تک پہنچ گئے پیدا ہو گئے اور اسلام جو بہشتی زندگی کا نمونہ لے کر آیا تھا اس قدرنا پاکیوں سے بھر گیا جیسے ایک سڑی ہوئی اور پر نجاست زمین ہوتی ہے۔ اس فیج اعوج کی مذمت میں وہ الفاظ کافی ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے اس کی تعریف میں نکلے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کوئی دوسرا انسان