تحفۂ گولڑویہ — Page 225
روحانی خزائن جلد۱۷ ۲۲۵ فرمایا ہے ليسوا منی ولستُ منهم یعنی وہ لوگ مجھ میں سے نہیں ہیں اور نہ میں اُن میں سے ہوں ۔ یہ گروہ حقیقی طور پر منعم علیہم نہیں ہیں ۔ اور اگر چہ زمانہ فیج اعوج میں بھی جماعت کثیر گمراہوں کے مقابل نیک اور اہل اللہ اور ہر صدی کے سر پر مجدد بھی ہوتے رہے ہیں لیکن حسب منطوق آیت ثُلَّةٌ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَثُلَّةٌ مِّنَ الْآخِرِينَ ل خالص محمدى | گروہ جو ہر ایک پلید ملونی اور آمیزش سے پاک اور تو بہ نصوح سے غسل دیئے ہوئے ایمان اور دقائق عرفان اور علم اور عمل اور تقویٰ کے لحاظ سے ایک کثیر التعداد جماعت ہے یہ اسلام میں صرف دو گروہ ہیں یعنی گروہ اولین و گروه آخرین جو صحابہ اور مسیح موعود کی اس حدیث کا یہ فقرہ جو لیسوا منی ہے جس کے یہ معنے ہیں کہ وہ لوگ مجھ میں سے نہیں ہیں یہی لفظ یعنی منی مہدی معہود کے لئے اس حدیث میں بھی وارد ہے جس کو ابوداؤ داپنی کتاب میں لایا ہے اور وہ یہ ہے لولم يبق من الدنيا الايوم لطول الله ذالك اليوم حتى يبعث فيه رجلا منی یعنی اگر دنیا میں سے صرف ایک دن باقی ہو گا تو خدا اس دن کو لمبا کر دے گا جب تک کہ ایک انسان یعنی مہدی کو ظاہر کرے جو مجھ میں سے ہوگا یعنی میرے صفات اور اخلاق لے کر آئے گا۔ ظاہر ہے کہ اس جگہ منی کے لفظ سے قریش ہونا مراد نہیں ورنہ یہ حدیث صرف مہدی کا قریش ہونا ظاہر کرتی اور کسی عالی مفہوم پر مشتمل نہ ہوتی لیکن جس طرز سے ہم نے لفظ مسنی کے معنے مراد لئے ہیں یعنی آنحضرت کے اخلاق اور کمالات اور معجزات اور کلام معجز نظام کا ظلی طور پر وارث ہونا اس سے صریح ثابت ہوتا ہے کہ مہدی افراد کا ملہ میں سے اور اپنے کمالات اخلاق میں ظل النبی ہے اور یہی عظیم الشان اشارہ ہے جو منی کے لفظ سے نکلتا ہے ورنہ جسمانی طور پر یعنی محض قریشی ہونے سے کچھ عظمت ثابت نہیں ہوتی بلکہ اس صورت میں ایک بے دین اور بد عاقبت آدمی بھی اس لفظ کا مصداق ہو سکتا ہے غرض مِنی کے لفظ سے قریش سمجھنا محض بیہودہ ہے ورنہ لازم آتا ہے کہ جو لوگ حدیث ليسوا منی کے نیچے ہیں اُن سے تمام وہ لوگ مراد ہوں جو قریشی نہیں ہیں اور یہ معنے صریح فاسد ہیں ۔ منہ الواقعة : ۴۱۴۰