تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 224 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 224

روحانی خزائن جلد۱۷ ۲۲۴ اُن کو واپس کیا مگر اب مسلمانوں پر کون سی مصیبت ہے اور کون اُن کو ہلاک کر رہا ہے کہ وہ بے جا طور پر تلوار اٹھاتے ہیں اور دلوں میں جہاد کی خواہش رکھتے ہیں انہی مخفی خواہشوں کی وجہ سے جو اکثر مولویوں کے دلوں میں ہیں آئے دن سرحد میں بے گناہ لوگوں کے خون ہوتے ہیں۔ یہ خون کس گروہ کی گردن پر ہیں؟ میں بے دھڑک کہوں گا کہ انہی مولویوں کی گردن پر جو اخلاص سے اس بدعت کے دور کرنے کے لئے پوری کوشش نہیں کرتے ۔ اس جگہ ایک بات کسی قدر زیادہ تفصیل کے لائق ہے اور وہ یہ ہے کہ ہم ابھی بیان کر چکے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے تمام مسلمانوں کو سورہ فاتحہ میں یہ دعا سکھلائی ہے کہ وہ اس فریق کی راہ خدا تعالیٰ سے طلب کرتے رہیں جو منعم علیہم کا فریق ہے اور منعم علیہم کے کامل طور پر مصداق باعتبار کثرت کمیت اور صفائی کیفیت اور نعماء حضرت احدیت از روئے نص صریح قرآنی اور احادیث متواترہ حضرت مرسل یزدانی دو گروہ ہیں۔ ایک گروہ صحابہ اور دوسرا گروہ جماعت مسیح موعود کیونکہ یہ دونوں گروہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ کے تربیت یافتہ ہیں کسی اپنے اجتہاد کے محتاج نہیں وجہ یہ کہ پہلے گروہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موجود تھے جو خدا سے براہ راست ہدایت پا کر وہی ہدایت نبوت کی پاک توجہ کے ساتھ صحابہ رضی اللہ عنہم کے دل میں ڈالتے تھے اور ان کے لئے مربی بے واسطہ تھے ۔ اور دوسرے گروہ میں مسیح موعود ہے جو خدا سے الہام پا تا اور حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت سے فیض اٹھاتا ہے لہذا اس کی جماعت بھی اجتہا دخشک کی محتاج نہیں ہے۔ جیسا کہ آیت وَأَخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ سے سمجھا جاتا ہے۔ اور درمیانی گروہ جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیج اعوج کے نام سے موسوم کیا ہے اور جن کی نسبت الجمعة : ۴