تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 223 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 223

۲۲۳ روحانی خزائن جلد۱۷ کہ آخری زمانہ میں ایک خونی مہدی ظاہر ہوگا اور وہ تمام عیسائیوں کو ہلاک کر دے گا اور زمین کو خون سے بھر دے گا اور جہاد ختم نہیں ہوگا جب تک وہ ظاہر نہ ہو اور اپنی تلوار سے ایک دنیا کو ہلاک نہ کرے۔ یہ سب جھوٹی باتیں ہیں جو قرآن کے نص صریح وَالْقَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاء إِلَى يَوْمِ الْقِيِّمَةِ " سے مخالف اور منافی ہیں ہر ایک مسلمان کو چاہیے کہ ان باتوں پر ہرگز اعتقاد نہ رکھے بلکہ جہاداب قطعاً حرام ہے اُسی وقت تک جہاد تھا کہ جب اسلام پر مذہب کے لئے تلوار اُٹھائی جاتی تھی اب خود بخود ایک ایسی ہوا چلی ہے جو ہر ایک فریق اس کارروائی کو نفرت کی نظر سے دیکھتا ہے جو مذہب کے لئے خون کیا جائے پہلے زمانوں میں صرف مسلمانوں میں ہی جہاد نہیں تھا بلکہ عیسائیوں میں بھی جہاد تھا اور انہوں نے بھی مذہب کے لئے ہزار ہا بندگان خدا کو اس دنیا سے رخصت کر دیا تھا مگر اب وہ لوگ بھی ان بیجا کارروائیوں سے کنارہ کش ہو گئے ہیں اور عام طور پر تمام لوگوں میں عقل اور تہذیب اور شائستگی آگئی ہے اس لئے مناسب ہے کہ اب مسلمان بھی جہاد کی تلوار کو تو ڑ کر کلبہ رانی کے ہتھیار بنالیں کیونکہ مسیح موعود آ گیا اور اب تمام جنگوں کا خاتمہ زمین پر ہو گیا ہاں آسمانی جنگ ابھی باقی ہیں جو معجزات اور نشانوں کے ساتھ ہوں گے نہ تلوار اور بندوق کے ساتھ اور وہی حقیقی جنگ ہیں جن سے ایمان قوی ہوتے ہیں اور نور یقین بڑھتا ہے ورنہ تلوار کا جنگ ایسا جائے اعتراض ہے کہ اگر اسلام کے صدر اور ابتدائی حالت میں یہ عذر اہل اسلام کے ہاتھ میں نہ ہوتا کہ وہ مخالفوں کے بے جا حملوں سے پیسے گئے اور نابود ہونے تک پہنچ گئے تب تلوار اٹھائی گئی تو بغیر اس عذر کے اسلام پر جہاد کا ایک داغ ہوتا۔ خدا ان بزرگوں اور راستبازوں پر ہزاراں ہزار رحمت کی بارش کرے جنہوں نے موت کا پیالہ پینے کے بعد پھر اپنی ذریت اور اسلام کے بقا کے لئے وہی پیالہ دشمنوں کا المائدة: ١٠