تحفۂ گولڑویہ — Page 222
روحانی خزائن جلد ۱۷ ۲۲۲ تحفہ گولڑویہ شیطان کے وسوسوں سے جولوگوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا ہے اور ان کو دین سے برگشتہ کرنا چاہتا ہے کبھی بطور خود اور کبھی کسی انسان میں ہو کر خدا کی پناہ مانگتے ہیں وہ خدا جو انسانوں کا پرورندہ ہے انسانوں کا بادشاہ ہے انسانوں کا خدا ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ایک زمانہ آنے والا ہے جو اُس میں نہ ہمدردی انسانی رہے گی جو پرورش کی جڑ ہے اور نہ سچا انصاف رہے گا جو بادشاہت کی شرط ہے تب اُس زمانہ میں خدا ہی خدا ہو گا جو مصیبت زدوں کا مرجع ہوگا۔ یہ تمام کلمات آخری زمانہ کی طرف اشارات ہیں جبکہ امان اور امانت دنیا پر سے اُٹھ جائے گی۔ غرض قرآن نے اپنے اول میں بھی مغضوب عليهم اور ضالین کا ذکر فرمایا ہے اور اپنے آخر میں بھی جیسا کہ آيت لم يلد ولم يولد بصراحت اس پر دلالت کر رہی ہے اور یہ تمام اہتمام تاکید کے لئے کیا گیا اور نیز اس لئے کہ تا مسیح موعود اور غلبہ نصرانیت کی پیشگوئی نظری نہ رہے اور آفتاب کی طرح چمک اُٹھے ۔ یادر ہے کہ قرآن شریف کے ایک موقعہ میں یہ ۷۹ بھی لکھا ہے کہ مسیح کو جو انسان ہے خدا کر کے ماننا یہ امر اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایسا گراں اور اُس کے غضب کا موجب ہے کہ قریب ہے کہ اس سے آسمان پھٹ جائیں ۔ پس یہ بھی مخفی طور پر اسی امر کی طرف اشارہ ہے کہ جب دنیا خاتمہ کے قریب آجائے گی تو یہی مذہب ہے جس کی وجہ سے انسانوں کی زندگی کی صف لپیٹ دی جائے گی ۔ اس آیت سے بھی یقینی طور پر سمجھا جاتا ہے کہ گو کیسا ہی اسلام غالب ہوا اور گو تمام ملتیں ایک ہلاک شدہ جانور کی طرح ہو جائیں لیکن یہ مقدر ہے کہ قیامت تک عیسائیت کی نسل منقطع نہیں ہوگی بلکہ بڑھتی جائے گی اور ایسے لوگ بکثرت پائے جائیں گے کہ جو بہائم کی طرح بغیر سوچنے سمجھنے کے حضرت مسیح کو خدا جانتے رہیں گے یہاں تک کہ اُن پر قیامت برپا ہو جائے گی ۔ یہ قرآن شریف کی آیت کا ترجمہ اور اس کا منشاء ہے۔ ہماری طرف سے نہیں ۔ پس ہمارے مخالف مسلمانوں کا یہ عقیدہ