تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 220 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 220

۲۲۰ روحانی خزائن جلد۱۷ علم کے مطابق ہے کہ جو اُس کو آخری زمانہ کی نسبت تھا۔ وہ جانتا تھا کہ یہ تمام مذہب بت پرستوں اور چینیوں اور پارسیوں اور ہندوؤں وغیرہ کے تنزل پر ہیں اور اُن کے لئے کوئی ایسا جوش نہیں دکھلایا جائے گا جو اسلام کو خطرہ میں ڈالے مگر عیسائیت کے لئے وہ زمانہ آتا جاتا ہے کہ اُس کی حمایت میں بڑے بڑے جوش دکھلائے جائیں گے اور کروڑ ہا روپیہ سے اور ہر ایک تدبیر اور ہر ایک مکر اور حیلہ سے اُس کی ترقی کے لئے قدم اٹھایا جائے گا اور یہ تمنا کی جائے گی کہ تمام دنیا مسیح پرست ہو جائے تب وہ دن اسلام کے لئے سخت دن ہوں گے اور بڑے ابتلا کے دن ہوں گے۔ سو اب یہ وہی فتنہ کا زمانہ ہے جس میں تم آج ہو۔ تیرہ سو برس کی پیشگوئی جو سورۃ فاتحہ میں تھی آج تم میں اور تمہارے ملک میں پوری ہوئی اور اس فتنہ کی جڑ مشرق ہی نکلا اور جیسا کہ اس فتنہ کا ذکر قرآن کے ابتدا میں فرمایا گیا ایسا ہی قرآن شریف کے انتہا میں بھی ذکر فر ما دیا تا یہ امر مؤکد ہو کر ولوں میں بیٹھ جائے۔ ابتدائی ذکر جو سورۃ فاتحہ میں ہے وہ تو تم بار بار سن چکے ہو اور انتہائی ذکر یعنی جو قرآن شریف کے آخر میں اس فتنہ عظیمہ کا ذکر ہے اس کی ہم کچھ اور تفصیل کر دیتے ہیں ۔ چنانچہ وہ سورتیں یہ ہیں۔ (1- سورة ) قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ - اللهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ - وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ ب (۲۔ سورۃ ) قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ وَ مِنْ شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ وَمِنْ شَرِ القُفتِ فِي الْعُقَدِ - وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ ! (۳۔ سورة) قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ - مَلِكِ النَّاسِ إِلَهِ النَّاسِ - مِنْ شَرِ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ - الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ ترجمہ : ۔ تم اے مسلمانو ! انصاری سے کہو کہ وہ اللہ ایک ہے ۔ اللہ بے نیاز ہے نہ اس سے کوئی پیدا ہوا اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا اور نہ کوئی اس کے برابر کا ہے ۔ اور تم جو نصاریٰ کا فتنہ دیکھو گے اور مسیح موعود کے دشمنوں کا نشانہ بنو گے یوں دعا ل الاخلاص : ۲ تا ۵ ۲ الفلق : ۲ تا ۶ ۳ الناس : ۲ تا ۷