تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 214 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 214

روحانی خزائن جلد ۱۷ ۲۱۴ تحفہ گولڑویہ دن مقرر ہے جو یوم المجازات اور یوم الدین اور یوم الفصل کہلاتا ہے (۲) دوسری قسم کے وہ مجرم ہیں جو ظلم اور ستم اور شوخی اور بیبا کی میں حا اور بیبا کی میں حد سے بڑھ جاتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ خدا کے ماموروں اور رسولوں اور راستبازوں کو درندوں کی طرح پھاڑ ڈالیں اور دنیا پر سے ان کا نام و نشان مٹا دیں اور ان کو آگ کی طرح بھسم کر ڈالیں۔ ایسے مجرموں کے لئے جن کا غضب انتہا تک پہنچ جاتا ہے سنت اللہ یہی ہے کہ اسی دنیا میں خدا تعالیٰ کا غضب اُن پر بھڑکتا ہے اور اسی دنیا میں وہ سزا پاتے ہیں علاوہ اس سزا کے جو قیامت کو ملے گی۔ اس لئے قرآنی اصطلاح میں اُن کا نام مغضوب عليهم ہے اور خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں حقیقی مصداق اس نام کا ان یہودیوں کو ٹھہرایا ہے جنہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نابود کرنا چاہا تھا۔ پس ان کے دائمی غضب کے مقابل پر خدا نے بھی ان کو دائمی غضب کے وعید سے پامال کیا جیسا کہ آیت وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إلى بـ ا إلى يَوْمِ القِيمة ے سے سمجھا جاتا ہے اس قسم کا غضب جو قیامت تک منقطع نہ ہو اس کی نظیر قرآن شریف میں بجز حضرت مسیح کے دشمنوں کے یا آنے والے مسیح موعود کے دشمنوں کے اور کسی قوم کے لئے پائی نہیں جاتی ہے اور مغضوب عليهم کے لفظ میں دنیا کے غضب کی وعید ہے جو دونوں مسیحوں کے دشمنوں کے متعلق ہے۔ یہ ایسی نص صریح ہے کہ اس سے انکار قرآن سے انکار ہے۔ ☆ اور یہ معنے جو ابھی میں نے سورۃ فاتحہ کی دعا غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ کے متعلق بیان کئے ہیں انہی کی طرف قرآن شریف کی آخری چار سورتوں میں اشارہ ہے جيسا كه سورة تبت کی پہلی آیت یعنی تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ کے اس موذی کی طرف اگر چه بد قسمت یہود ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی دشمنی رکھتے تھے مگر اس مظفر و منصور نبی کے۔ کے مقابل پر جس کے تیر دشمنوں کو خوب تیزی دکھلاتے تھے یہودنا مسعود کی کچھ چالا کی پیش نہیں گئی ۔ منہ ال عمران : ۵۶ الفاتحة : اللهب : ٢