تحفۂ گولڑویہ — Page 206
۲۰۶ روحانی خزائن جلد۱۷ ہے کہ اُس زمانہ میں جب کہ مسیح موعود ظاہر ہوگا عیسائیوں کا بہت زور ہوگا اور عیسائیت ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی ایک مکھی بھی زندہ نہ کی۔ اور پھر مسیح نے بقول تمہارے ہزار ہا پرندے بھی پیدا کئے اور اب تک کچھ خدا کی مخلوقات اور کچھ اس کی مخلوقات دنیا میں موجود ہے اور ان تمام فوق العادت کاموں میں وہ وحدہ لاشریک ہے بلکہ بعض امور میں خدا سے بڑھا ہوا ہے اور اس کی پیدائش کے وقت میں شیطان نے بھی اُس کو مس نہیں کیا مگر دوسرے تمام پیغمبروں کو مس کیا۔ وہ قیامت کو بھی اپنا کوئی گناہ نہیں بتلائے گا مگر دوسرے تمام نبی گنا ہوں میں مبتلا ہوں گے یہاں تک کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی نہیں کہہ سکیں گے کہ میں معصوم ہوں ۔ اب بتلاؤ کہ اس قدر خصوصیتیں حضرت عیسی علیہ السلام میں جمع کر کے کیا ان مولویوں نے حضرت عیسی کو خدائی کے مرتبہ تک نہیں پہنچایا۔ اور کیا کسی حد تک پادریوں کے دوش بدوش نہیں چلے ؟ اور کیا ان لوگوں نے حضرت عیسیٰ کو وحدہ لاشریک کا مرتبہ دینے میں کچھ فرق کیا ہے ؟ مگر مجھے خدا نے اس تجدید کے لئے بھیجا ہے کہ میں لوگوں پر ظاہر کروں کہ ایسا خیال کرنا خدا سے بڑھا ہوا اس طرح پر کہ خدا تو تو مہینے میں انسان کا بچہ پیدا کرتا ہے اور ہر ایک حیوان کی پیدائش کچھ نہ کچھ مہلت چاہتی ہے مگر مسیح کی یہ عجیب خالقیت کئی درجہ خدا کی خالقیت سے بڑھی ہوئی معلوم ہوتی ہے کیونکہ مسیح کا یہ کام تھا کہ فی الفور ایک مٹی کا جانور بنایا اور پھونک مارتے ہی وہ زندہ ہو کر اڑنے لگا اور خدا کے پرندوں میں جا ملا۔ میں نے ایک دفعہ ایک غیر مقلد سے جو اہلحدیث کہلاتے ہیں پوچھا کہ جبکہ بقول تمہارے حضرت مسیح نے ہزار ہا پرندہ بنائے تو کیا تم ان دو قسم کے پرندوں میں کچھ فرق کر سکتے ہو کہ میچ کے کونسے ہیں اور خدا کے کونسے۔ اُس نے جواب دیا کہ آپس میں مل گئے ۔ اب کیونکر فرق ہو سکتا ہے۔ اس اعتقاد سے نعوذ باللہ خدا تعالیٰ بھی دھوکہ باز ٹھہرتا ہے کہ اپنے بندوں کو تو حکم دیا کہ میرا کوئی شریک نہ بناؤ اور پھر آپ حضرت مسیح کو ایسا بڑا شریک اور حصہ دار بنا دیا کہ کچھ تو خدا کی مخلوقات اور کچھ حضرت مسیح کی مخلوقات ہے بلکہ مسیح خدا کے بعث بعد الموت میں بھی شریک اور علم غیب میں بھی شریک کیا اب بھی نہ کہیں کہ لعنة الله على الكاذبين - منه ☆