تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 205 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 205

۲۰۵ روحانی خزائن جلد۱۷ اور تم میں سے بھی بہتوں میں یہ مادہ موجود ہے۔ پس خبر دار رہو اور دعا میں مشغول رہوتا (۷) ٹھوکر نہ کھاؤ ۔ اور اس آیت کا دوسرا فقرہ جو الضالین ہے جس کے یہ معنے ہیں کہ ہمیں اے ہمارے پروردگار اس بات سے بھی بچا کہ ہم عیسائی بن جائیں یہ اس بات کی طرف اشارہ (۷۲) ملا ہوا ہے کہ گویا اُن روحوں میں ایک روح ہے اور پھر دنیوی زندگی میں بھی کچھ فتور نہیں ۔ اس جہان میں بھی ہے اور اُس جہان میں بھی گویا دونوں طرف اپنے دو پیر پھیلا رکھے ہیں ایک پیر دنیا میں اور دوسرا پیر فوت شدہ روحوں میں۔ اور دنیوی زندگی بھی عجیب که با وجود اس قد را امتداد مدت کے کھانے پینے کی محتاج نہیں اور نیند سے بھی فارغ ہے اور پھر آخری زمانہ میں بڑے کروفر اور جلالی فرشتوں کے ساتھ آسمان پر سے اترے گا۔ اور گو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا معراج (۷۰)) کی رات میں نہ چڑھنا دیکھا گیا اور نہ اتر نامگر حضرت مسیح کا اتر نا دیکھا جائے گا۔ تمام مولویوں کے رو بر وفرشتوں کے کاندھوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے اُترے گا۔ پھر اسی پر بس نہیں بلکہ مسیح نے وہ کام دکھلائے جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم با وجود اصرار مخالفوں کے دکھلا نہ سکے۔ بار بار قرآنی اعجاز کا ہی حوالہ دیا۔ بقول تمہارے مسیح سچ سچ مر دوں کو زندہ کرتا رہا۔ شہر کے لاکھوں انسان ہزاروں برسوں کے مرے ہوئے زندہ کر ڈالے۔ ایک دفعہ شہر کا شہر زندہ کر دیا مگر ہم بار ہا لکھ چکے ہیں کہ حضرت مسیح کو اتنی بڑی خصوصیت آسمان پر زندہ چڑھنے اور اتنی مدت تک زندہ رہنے اور پھر دوبارہ اُترنے کی جو دی گئی ہے اس کے ہریک پہلو سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ کا ایک بڑا تعلق جس کا کچھ حد و حساب نہیں حضرت مسیح سے ہی ثابت ہوتا ہے مثلاً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نو برس تک بھی عمر نہ پہنچی مگر حضرت مسیح اب قریبا دو ہزار برس سے زندہ موجود ہیں ۔ اور خدا تعالی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چھپانے کے لئے ایک ایسی ذلیل جگہ تجویز کی جو نہایت متعفن اور تنگ اور تاریک اور حشرات الارض کی نجاست کی جگہ تھی مگر حضرت مسیح کو آسمان پر جو بہشت کی جگہ اور فرشتوں کی ہمسائیگی کا مکان ہے بلا لیا۔ اب بتلاؤ محبت کس سے زیادہ کی؟ عزت کس کی زیادہ کی ؟ قرب کا مکان کس کو دیا اور پھر دوبارہ آنے کا شرف کس کو بخشا ؟ منه