تحفۂ گولڑویہ — Page 201
روحانی خزائن جلد ۱۷ ۲۰۱ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ ے سے صریح اور صاف طور پر سمجھا جاتا ہے جس کا ذکر پہلے ہو چکا ہے یعنی جبکہ مماثلت کی ضرورت کی وجہ سے واجب تھا کہ اس اُمت کے خلیفوں کا سلسلہ ایک ایسے خلیفہ پر ختم ہو جو حضرت عیسی علیہ السلام کا مثیل ہو تو منجملہ وجوہ مماثلت کے ایک یہ وجہ بھی ضروری الوقوع تھی کہ جیسے حضرت عیسی علیہ السلام کے وقت کے فقیہ اور مولوی اُن کے دشمن ہو گئے تھے اور اُن پر کفر کا فتویٰ لکھا تھا اور ان کو سخت سخت گالیاں دیتے اور اُن کی اور اُن کی پردہ نشین عورتوں کی توہین کرتے اور اُن کے ذاتی نقص نکالتے تھے اور کوشش کرتے تھے کہ اُن کو لعنتی ثابت کریں ایسا ہی اسلام کے مسیح موعود پر اس زمانہ کے مولوی کفر کا فتویٰ لکھیں اور اس کی توہین کریں اور اس کو بے ایمان اور لعنتی قرار دیں اور گالیاں دیں اور اس کے پرائیویٹ امور میں دخل دیں اور طرح طرح کے اس پر افترا کریں اور قتل کا فتوی دیں پس چونکہ یہ امت مرحومہ ہے اور خدا نہیں چاہتا کہ ہلاک ہوں۔ اس لئے اُس نے یہ دعا غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمُ کی سکھلا دی اور اس کو قرآن میں نازل کیا اور قرآن اسی سے شروع ہوا اور یہ دعا مسلمانوں کی نمازوں میں داخل کر دی تا وہ کسی وقت سوچیں اور سمجھیں کہ کیوں ان کو یہود کی اس سیرت سے ڈرایا گیا جس سیرت کو یہود نے نہایت بُرے طور سے حضرت عیسی علیہ السلام پر ظاہر کیا تھا۔ یہ بات صاف طور پر سمجھ آتی ہے کہ اس دُعا میں جو سورۃ فاتحہ میں مسلمانوں کو سکھائی گئی ہے فرقہ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمُ سے مسلمانوں کا بظاہر کچھ بھی تعلق نہ تھا کیونکہ جبکہ قرآن شریف اور (۶۸) احادیث اور اتفاق علماء اسلام سے ثابت ہو گیا ہے کہ مغضوب علیہم سے یہود مراد ہیں اور یہود بھی وہ جنہوں نے حضرت مسیح کو بہت ستایا اور دکھ دیا تھا اور ان کا نام کا فر اور لعنتی رکھا تھا اور اُن کے قتل کرنے میں کچھ فرق نہیں کیا تھا اور توہین کو اُن کی مستورات تک پہنچا دیا تھا تو پھر مسلمانوں کو اس دعا سے کیا تعلق تھا اور کیوں یہ دعا ان کو سکھلائی گئی۔ اب معلوم ہوا کہ یہ تعلق تھا کہ اس جگہ بھی پہلے مسیح کی مانند ایک مسیح آنے والا تھا اور مقدر تھا کہ اُس کی بھی ویسی ہی تو ہین اور النور: ۵۶