تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 200 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 200

روحانی خزائن جلد۱۷ ۲۰۰ بھڑ کا تھا جبکہ اُس وجیہ نبی کو گرفتار کرا کر مصلوب کرنے کے لئے کھو پری کے مقام پر لے گئے تھے ۔ اور جہاں تک بس چلا تھا ہر ایک قسم کی ذلت پہنچائی تھی اور کوشش کی گئی تھی کہ وہ مصلوب ہو کر تو ریت کی نصوص صریحہ کے رو سے ملعون سمجھا جائے اور اُس کا نام اُن میں لکھا جائے جو مرنے کے بعد تحت الثریٰ کی طرف جاتے ہیں اور خدا کی طرف اُن کا رفع نہیں ہوتا۔غرض جبکہ یہ مقدمہ قرآن شریف کے نصوص صریحہ سے ثابت ہو گیا کہ مغضوب سے مراد یہود ہیں اور ضالین سے مراد نصاری ۔ اور یہ بھی ثابت ہو گیا کہ مغضوب میھم کا پُر غضب خطاب جو یہودیوں کو دیا گیا یہ اُن یہودیوں کو خطاب ملا تھا جنہوں نے شرارت اور بے ایمانی سے حضرت عیسی علیہ السلام کی تکذیب کی اور اُن پر کفر کا فتویٰ لکھا اور ہر ایک طرح سے اُن کی توہین کی اور اُن کو اپنے خیال میں قتل کر دیا اور اُن کے رفع سے انکار کیا بلکہ ان کا نام لعنتی رکھا تو اب اس جگہ طبعا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے کیوں مسلمانوں کو یہ دعا سکھلائی؟ بلکہ قرآن شریف کا افتتاح بھی اسی دعا سے کیا اور اس دعا کو مسلمانوں کے لئے ایک ایسا ور دلازمی اور وظیفہ دائگی کر دیا کہ پانچ وقت قریباً نو گئے کروڑ مسلمان مختلف دیار اور بلاد میں یہی دعا اپنی نمازوں میں پڑھتے ہیں اور باوجود بہت سے اختلافات کے جو اُن میں اور اُن کے نماز کے طریق میں پائے جاتے ہیں کوئی فرقہ مسلمانوں کا ایسا نہیں ہے کہ جو اپنی نماز میں یہ دعا نہ پڑھتا ہو۔ اس سوال کا جواب خود قرآن شریف نے اپنے دوسرے مقامات میں دے دیا ہے مثلاً جیسا کہ آیت كَمَا اسْتَخْلَفَ ا تحقیقات کے رو سے یہی صحیح تعداد مسلمانوں کی ہے یعنی نوے کروڑ مسلمانوں کی مردم شماری صحت کو پہنچی ہے۔ انگریزوں کے مؤرخ عرب کے مختلف حصوں کی مردم شماری اور ایسا ہی بلا د شام اور بلاد روم کی مردم شماری کی تعداد صحت سے دریافت نہیں کر سکے اور افریقہ اور چین کی اسلامی آبادیاں شائد نظر انداز ہی رہیں لہذا جو کچھ عیسائی مردم شماری میں اہل اسلام کی میزان دکھائی گئی ہے یہ بھی نہیں ہے ہر گز صحیح نہیں ہے۔ منہ النور: ۵۶