تحفۂ گولڑویہ — Page 199
روحانی خزائن جلد ۱۷ ۱۹۹ مغضوب عليهم ہونے کی یہی ہے کہ انہوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کو سخت ایذا دی اُن کی تکفیر کی اُن کی تفسیق کی اُن کی توہین کی۔ اُن کو مصلوب قرار دیا تا وہ نعوذ باللہ لعنتی قرار دیئے جائیں اور ان کو اس حد تک دکھ دیا کہ حسب منطوق آیت وَقَوْلِهِمْ عَلَى مَرْيَمَ بُهْتَانًا عَظِيما لے۔ اُن کی ماں پر بھی سخت بہتان لگایا۔ غرض جس قدر ایذا کی قسمیں ہو سکتی ہیں کہ تکذیب کرنا، گالیاں دینا اور افترا کے طور پر کئی تہمتیں لگانا اور کفر کا فتویٰ دینا اور ان کی جماعت کو متفرق کرنے کے لئے کوشش کرنا اور حکام کے حضور میں ان کی نسبت جھوٹی مخبریاں کرنا اور کوئی دقیقہ توہین کا نہ چھوڑنا اور بالآ خرقتل کے لئے آمادہ ہونا یہ سب کچھ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت یہود بد قسمت سے ظہور میں آیا اور آیت وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلى يَوْمِ الْقِيَةِ " کو غور سے پڑھ کر معلوم ہوتا ہے کہ آیت ضُرِبَتْ عَلَيْهِمْ الذِلَّةُ وَالْمَسْكَنَةُ " کی سزا بھی حضرت مسیح کی ایڈا کی وجہ سے ہی یہود کو دی گئی ہے کیونکہ آیت موصوفہ بالا میں یہود کے لئے یہ دائمی وعید ہے کہ وہ ہمیشہ محکومیت میں جو ہر ایک عذاب اور ذلت کی جڑ ہے زندگی بسر کریں گے جیسا کہ اب بھی یہود کی ذلت کے (۲۷) حالات کو دیکھ کر یہ ثابت ہوتا ہے کہ اب تک خدا تعالیٰ کا وہ غصہ نہیں اترا جو اُس وقت ا جیسا کہ شریر مخالفوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کی ماں پر بہتان لگایا اسی طرح میری بیوی کی نسبت شیخ محمد حسین اور اس کے دلی دوست جعفر زٹلی نے محض شرارت سے گندی خواہیں بنا کر سراسر بے حیائی کی راہ سے شائع کیں۔ اور میری دشمنی سے اس جگہ وہ لحاظ اور ادب بھی نہ رہا جو اہل بیت آل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک دامن خواتین سے رکھنا چاہیے۔ مولوی کہلا نا اور یہ بے حیائی کی حرکات ۔ افسوس ہزار افسوس ! یہی وہ بے جا حرکت تھی جس پر مسٹر ہے۔ ایم ۔ ڈوئی صاحب بہادر آئی سی۔ ایس سابق ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ضلع گورداسپور نے مولوی محمد حسین کو چشم نمائی کی تھی اور آئندہ ایسی حرکات سے روکا تھا۔ منہ ا النساء: ۱۵۷ ال عمران: ۵۲ البقرة: ٦٢