تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 197 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 197

روحانی خزائن جلد۱۷ ۱۹۷ اچھلنا چاہیے کہ خدا نے قرآن شریف میں آخری زمانہ کی نسبت جو مسیح موعود اور یا جوج ماجوج اور دجال کا زمانہ ہے یہ خبر دی ہے کہ اُس زمانہ میں یہ رفیق قدیم عرب کا یعنی اونٹ جس پر وہ مکہ سے مدینہ کی طرف جاتے تھے اور بلاد شام کی طرف تجارت کرتے تھے ہمیشہ کے لئے اُن سے الگ ہو جائے گا۔ سبحان اللہ ! کس قدر روشن پیشگوئی ہے یہاں تک کہ دل چاہتا ہے کہ خوشی سے نعرے ماریں کیونکہ ہماری پیاری کتاب اللہ قرآن شریف کی سچائی اور منجانب اللہ ہونے کے لئے یہ ایک ایسا نشان دنیا میں ظاہر ہو گیا ہے کہ نہ توریت میں ایسی بزرگ اور کھلی کھلی پیشگوئی پائی جاتی ہے اور نہ انجیل میں اور نہ دنیا کی کسی اور کتاب میں۔ ہندؤوں کے ایک پنڈت دیا نند نام نے ناحق فضولی کے طور پر کہا تھا کہ وید میں ریل کا ذکر ہے۔ یعنی پہلے زمانہ میں آریہ ورت ( ملک ہند) میں ریل جاری تھی مگر جب ثبوت مانگا گیا تو بجز بیہودہ باتوں کے اور کچھ جواب نہ تھا۔ اور دیا نند کا یہ مطلب نہیں تھا کہ وید میں پیشگوئی کے طور پر ریل کا ذکر ہے کیونکہ دیا نند اس بات کا معترف ہے کہ وید میں کوئی پیشگوئی نہیں بلکہ اس کا صرف یہ مطلب تھا کہ ہندؤوں کے عہد سلطنت میں بھی یورپ کے فلاسفروں کی طرح ایسے کاریگر موجود تھے اور اُس زمانہ میں بھی ریل موجود تھی یعنی ہمارے بزرگ بھی انگریزوں کی طرح کئی صنعتیں ایجاد کرتے تھے لیکن قرآن شریف یہ دعوی نہیں کرتا کہ کسی زمانہ میں ملک عرب میں ریل موجود تھی بلکہ آخری زمانہ کے لئے ایک عظیم الشان پیشگوئی کرتا ہے کہ اُن دنوں میں ایک بڑا انقلاب ظہور میں آئے گا اور اونٹوں کی سواری بیکار ہو جائے گی اور ایک نئی سواری دنیا میں پیدا ہو جائے گی جو اونٹوں سے مستغنی کر دے گی۔ یہ پیشگوئی جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں حدیث مسلم میں بھی موجود ہے جو مسیح موعود کے زمانہ کی علامت بیان کی گئی ہے مگر (11) معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم نے اس پیشگوئی کو قرآن شریف کی اس آیت سے ہی استنباط کیا ہے یعنی وَإِذَا الْعِشَارُ عُظَلَتْ ے سے ۔ یادر ہے کہ قرآن شریف میں دو قسم کی پیشگوئیاں ہیں ایک قیامت کی اور ایک زمانہ آخری کی مثلاً جیسے یا جوج ماجوج التكوير : ۵