تحفۂ گولڑویہ — Page 193
روحانی خزائن جلد۱۷ ۱۹۳ وہ ان ہر دو نبی صاحب الشریعت کی قوم میں سے نہیں ہیں ۔ حضرت عیسی اس لئے کہ ان کا کوئی باپ نہیں اور اسلام کے مسیح موعود کی نسبت جو آخری خلیفہ ہے خود علماء اسلام مان چکے ہیں کہ وہ قریش میں سے نہیں ہے اور نیز قرآن شریف فرماتا ہے کہ یہ دونوں مسیح ایک دوسرے کا عین نہیں ہیں کیونکہ خدا تعالی قرآن شریف میں اسلام کے مسیح موعود کو موسوی مسیح موعود کا مثیل ٹھہراتا ہے نہ عین ۔ پس محمدی مسیح موعود کو موسوی مسیح کا عین قرار دینا قرآن شریف کی تکذیب ہے۔ اور تفصیل اس استدلال کی یہ ہے کہ گما کا لفظ جو آیت كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ میں ہے جس سے تمام محمدی سلسلہ کے خلیفوں کی موسوی سلسلہ کے خلیفوں کے ساتھ مشابہت ثابت ہوتی ہے ہمیشہ مماثلت کے لئے آتا ہے اور مماثلت ہمیشہ من وجه مغایرت کو چاہتی ہے یہ ممکن نہیں کہ ایک چیز اپنے نفس کی مثیل کہلائے بلکہ مشبہ اور مشبہ بہ میں کچھ مغامرت ضروری ہے اور عین کسی وجہ سے اپنے نفس کا مغایر نہیں ہو سکتا۔ پس جیسا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت موسیٰ کے مثیل ہو کر اُن کے عین نہیں ہو سکتے ایسا ہی تمام محمدی خلیفے جن میں سے آخری خلیفہ مسیح موعود ہے وہ موسوی خلیفوں کے جن میں سے آخری خلیفہ حضرت عیسی علیہ السلام ہیں کسی طرح عین نہیں ہو سکتے اس سے قرآن شریف کی تکذیب لازم آتی ہے کیونکہ گما کا لفظ جیسا کہ حضرت موسیٰ اور آنحضرت کی مشابہت کے لئے قرآن نے استعمال کیا ہے وہی گما کا لفظ آیت كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ میں وارد ہے جو اسی قسم کی مغائرت چاہتا ہے جو حضرت موسیٰ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں ہے ۔ یادر ہے کہ اسلام کا بارھواں خلیفہ جو تیرھویں صدی کے سر پر ہونا چاہیے وہ بیٹی نبی کے مقابل پر ہے جس کا ایک پلید قوم کے لئے سرکاٹا گیا ( سمجھنے والا سمجھ لے ) اس لئے ضروری ہے کہ بارھواں خلیفہ قریشی ہو جیسا کہ حضرت یکی اسرائیلی ہیں لیکن اسلام کا تیرھواں خلیفہ جو چودھویں صدی کے سر پر ہونا چاہیے جس کا نام مسیح موعود ہے اس کے لئے ضروری تھا کہ وہ قریش میں سے نہ ہو جیسا کہ حضرت