تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 191 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 191

روحانی خزائن جلد۱۷ ۱۹۱ محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ کے پہلے خلیفہ تھے حضرت یوشع بن نون علیہ السلام سے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وفات کے بعد ان کے پہلے خلیفہ ہیں اشد مشابہت ہے تو پھر اس سے لازم آیا کہ جیسا کہ سلسلہ محمدیہ کی خلافت کا پہلا خلیفہ سلسلہ موسویہ کی خلافت کے پہلے خلیفہ سے مشابہت رکھتا ہے ایسا ہی سلسلہ محمدیہ کی خلافت کا آخری خلیفہ جو مسیح موعود سے موسوم ہے سلسلہ موسویہ کے آخری خلیفہ سے جو حضرت عیسی بن مریم ہے مشابہت رکھے تا دونوں سلسلوں کی مشابہت تامہ میں جو نص قرآنی سے ثابت ہوتی ہے کچھ نقص نہ رہے کیونکہ جب تک دونوں سلسلے یعنی سلسلہ موسویہ وسلسلہ محمد یہ اوّل سے آخر تک باہم مشابہت نہ دکھلائیں تب تک وہ مماثلت جو آیت عملی حالت سے کھلے ہیں یہی ہیں کہ بعض گمراہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے مقام بلند سے منکر ہو جائیں گے اوران کی تکفیر کریں گے پس اس آیت سے بجھا جاتا ہے کہ میں مودی بھی تکفیر ہوگی کیونکہ وہ خلافت کے اس آخری نقطہ پر ہے جو خلافت کے پہلے نقطہ سے ملا ہوا ہے۔ یہ بات بہت ضروری اور یا در رکھنے کے لائق ہے کہ ہر ایک دائرہ کا عام قاعدہ یہی ہے کہ اُس کا آخری نقطہ پہلے نقطہ سے اتصال رکھتا ہے لہذا اس عام قاعدہ کے موافق خلافت محمدیہ کے دائرہ میں بھی ایسا ہی ہونا ضروری ہے یعنی یہ لازمی امر ہے کہ آخری نقطہ اس دائرہ کا جس سے مراد مسیح موعود ہے جو سلسلہ خلافت محمدیہ کا خاتم ہے وہ اس دائرہ کے پہلے نقطہ سے جو خلافت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا نقطہ ہے جو سلسلہ خلافت محمدیہ کے ۶۲) دائرہ کا پہلا نقطہ جو ابو بکر ہے وہ اس دائرہ کے انتہائی نقطہ سے جو مسیح موعود ہے اتصال تام رکھتا ہے جیسا کہ مشاہدہ اس بات پر گواہ ہے کہ آخر نقطہ ہر ایک دائرہ کا اس کے پہلے نقطہ سے جاملتا ہے۔ اب جبکہ اول اور آخر کے دونوں نقطوں کا اتصال مانا پڑا تو اس سے یہ ثابت ہوا کہ جو قرآنی پیشگوئیاں خلافت کے پہلے نقطہ کے حق میں ہیں یعنی حضرت ابو بکر کے حق میں وہی خلافت کے آخری نقطہ کے حق میں بھی ہیں یعنی مسیح موعود کے حق میں اور یہی ثابت کرنا تھا۔ منہ