تحفۂ گولڑویہ — Page 186
۱۸۶ روحانی خزائن جلد۱۷ کے رنگ میں نہ شرعی رنگ میں حضرت ابو بکر کے دل پر بھی نازل ہوا تھا تناسب اور تشابہ واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ گویا ابو بکر بن قحافہ اور میشوع بن نون ایک ہی شخص ہے۔ استخلافی مماثلت نے اس جگہ گس کر اپنی مشابہت دکھلائی ہے یہ اس لئے کہ کسی دو لمبے سلسلوں میں با ہم مشابہت کو دیکھنے والے طبعا یہ عادت رکھتے ہیں کہ یا اول کو دیکھا کرتے ہیں اور یا آخر کو مگر دو سلسلوں کی درمیانی مماثلت کو جس کی تحقیق و تفتیش زیادہ وقت چاہتی ہے دیکھنا ضروری نہیں سمجھتے بلکہ اوّل اور آخر پر قیاس کر لیا کرتے ہیں اس لئے خدا نے اس مشابہت کو جو (۵۹) یشوع بن نون اور حضرت ابوبکر میں ہے جو دونوں خلافتوں کے اول سلسلہ میں ہیں اور نیز اس مشابہت کو جو حضرت عیسی بن مریم اور اس اُمت کے مسیح موعود میں ہے جو دونوں خلافتوں کے آخر سلسلہ میں ہیں اجلی بدیہیات کر کے دکھلا دیا مثلاً یشوع اور ابوبکر میں وہ مشابہت درمیان رکھ دی کہ گویا وہ دونوں ایک ہی وجود ہے یا ایک ہی جو ہر کے دوٹکڑے ہیں اور جس طرح بنی اسرائیل حضرت موسیٰ کی وفات کے بعد یوشع بن نون کی باتوں کے شنوا ہو گئے اور کوئی اختلاف نہ کیا اور سب نے اپنی اطاعت ظاہر کی یہی واقعہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو پیش آیا اور سب نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جدائی میں آنسو بہا کر دلی رغبت سے حضرت ابوبکر کی خلافت کو قبول کیا۔ غرض ہر ایک پہلو سے حضرت ابو بکر صدیق کی مشابہت حضرت یشوع بن نون علیہ السلام سے ثابت ہوئی۔ خدا نے جس طرح حضرت یشوع بن نون کو اپنی وہ تائیدیں دکھلائیں کہ جو حضرت موسیٰ کو دکھلایا کرتا تھا ایسا ہی خدا نے تمام صحابہ کے سامنے حضرت ابوبکر کے کاموں میں برکت دی اور نبیوں کی طرح اس کا اقبال چمکا ۔ اُس نے مفسدوں اور جھوٹے نبیوں کو خدا سے قدرت اور جلال پا کر قتل کیا تا کہ اصحاب رضی اللہ عنہم جانیں کہ جس طرح خدا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا اس کے بھی ساتھ ہے۔ ایک اور عجیب مناسبت حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو حضرت یشوع بن نون علیہ السلام سے ہے اور وہ یہ ہے کہ حضرت