تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 180 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 180

۱۸۰ روحانی خزائن جلد ۱۷ اب دیکھو کہ جو میرے پر اعتراض کرتے ہیں اُن کے ہاتھ میں تو کچھ ثبوت بھی نہیں محض بدظنی سے جھوٹ کی نجاست ہے مگر جنہوں نے حضرت موسیٰ پر اعتراض کئے وہ تو اپنے الزامات کے ثبوت میں توریت کی آیتیں پیش کرتے ہیں۔ ایسا ہی بہت سے اعتراض یہودیوں نے حضرت مسیح کی زندگی پر بھی کئے ہیں جو نہایت گندے اور نا قابل ذکر ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اور ذاتی حالات پر جو جو اعتراضات میزان الحق اور عماد الدین کی کتابوں اور امہات المومنین وغیرہ میں کئے ہیں وہ کسی پر پوشیدہ نہیں۔ پس اگر ان اعتراضات سے کچھ نتیجہ نکلتا ہے تو بس یہی کہ ہمیشہ ناپاک خیال لوگ ایسے ہی اعتراضات کرتے آئے ہیں اور اللہ تعالیٰ کو بھی منظور تھا کہ ان کا امتحان کرے اس لئے اپنے مقدس لوگوں کے بعض افعال اور معاملات کی حقیقت اُن پر پوشیدہ کردی تا اُن کا خبث ظاہر کرے۔ اور جو میری پیشگوئیوں کی نسبت اعتراض کیا ہے میں اس کا جواب پہلے دے چکا ہوں کہ یہ اعتراض بھی سنت اللہ کے موافق میرے پر کیا گیا ہے یعنی کوئی نبی نہیں گذرا جس کی بعض پیشگوئیوں کی نسبت اعتراض نہیں ہوا۔ یہ کس قسم کی بدبختی اور بدقسمتی ہے کہ ہمیشہ سے اندھے لوگ خدا کے روشن نشانوں سے فائدہ نہیں اُٹھاتے رہے اور اگر اُن میں کوئی نظری طور پر دقیق پیشگوئی اسی طور پر ظہور میں آئی جس کو موٹی عقلیں سمجھ نہ سکیں تو وہی محل اعتراض بنالیا جیسا کہ کتاب تریاق القلوب کے پڑھنے والے خوب جانتے ہیں کہ آج تک میرے ہاتھ پر سو سے زیادہ خدا تعالیٰ کا نشان ظاہر ہوا جن کے دنیا میں کئی لاکھ انسان گواہ ہیں مگر کو رچشم معترضوں نے ان کی طرف کچھ بھی توجہ نہیں کی اور نہ اُن سے کچھ فائدہ اُٹھایا اور جب ایک دو نشان کونه اندیشی یا بخل یا فطرتی کور باطنی کی وجہ سے ان کو سمجھ نہ آئے تو بغیر اس کے کہ کچھ سوچتے اور تامل کرتے یا مجھ سے پوچھتے شور مچا دیا۔ اسی طرح ابو جہل وغیرہ مخالف انبیاء علیہم السلام شور مچاتے رہے ہیں۔ نہ معلوم اس ظلم کا خدا تعالیٰ کو کیا جواب دیں گے۔ ان لوگوں کا بجز اس کے