تحفۂ گولڑویہ — Page 179
۱۷۹ روحانی خزائن جلد ۷ بڑا پیار اُن سے ظاہر کیا تھا اور بڑی محبت اور تعظیم سے پیش آئے تھے گویا اُن پر فدا ہوتے جاتے تھے۔ یہ خواب کا مضمون ہے جو خط میں میری طرف لکھا گیا تھا جس کی نسبت بیان کیا گیا ہے کہ اس خواب کا دیکھنے والا ایک بڑا بزرگ پاک باطن ہے جس کو دکھلایا کہ یہ سب مولوی پنجاب اور ہندوستان کے اقطاب اور ابدال کے درجہ پر ہیں۔ چونکہ یہ خط اتفاق سے گم ہو گیا ہے اور اس وقت مجھے نہیں ملا اس لئے میں صاحب راقم کی خدمت میں عذر کرتا ہوں کہ اگر کوئی حصہ اُن کے خواب کا جو پنجاب کے مولویوں کی بزرگ شان میں ہے یا جو اس دربار میں مجھے سزادی گئی میرے لکھنے سے رہ گیا ہو تو معاف فرما ئیں اور میں نے حتی المقدور اس خواب کے کسی حصہ کو ترک نہیں کیا۔ یہ تمام ایک اعتراض ہے جو میرے پر کیا گیا ہے اور مجھے کذاب ، دجال، کافر، مفتری، فاسق ، فریبی ، حرام خور، ریا کار، متکبر، بدگو، بد زبان ٹھہرا کر پھر گویا اُس بزرگ کی اس خواب کے ساتھ ان تمام الزاموں کا ثبوت دے کر اثبات دعوی سے سبکدوشی حاصل کر لی گئی ہے اور ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ صرف یہ کشف اور رویا ہی تمہارے کا فر ہونے پر دلیل نہیں ہے بلکہ اُمت کا اجماع بھی تو ہو گیا۔ اور اجماع کے یہ معنے کئے گئے ہیں کہ گولڑہ سے دیتی تک جس قدر مولوی اور سجادہ نشین تھے سب نے کفر کی گواہی دے دی اب شک کیا رہا بلکہ اب تو کافر کہنا اور لعنت بھیجنا موجب درجات ہے اور بعض نفلی عبادتوں سے بہتر ۔ اعتراض مذکورہ بالا میں جس قدر میری ذاتیات کی نسبت نکتہ چینی کی گئی ہے میں اس سے ناراض نہیں ہوں کیونکہ کوئی رسول اور نبی اور مامور من اللہ نہیں گذرا جس کی نسبت ایسی نکتہ چینیاں نہیں ہوئیں۔ ابھی ایک رسالہ آریہ صاحبوں نے شائع کیا ہے جس میں نعوذ باللہ حضرت موسیٰ کو گویا تمام مخلوقات سے بدتر ٹھہرایا گیا ہے اور جس قدر میرے پر اعتراض کو نہ بینی اور تعصب سے کئے جاتے ہیں وہ سب اُن پر کئے گئے ہیں یہاں تک کہ نعوذ باللہ ان کو عہد شکن، دروغ گو اور ظلم سے بیگانہ کا مال حرام کھانے والا اور فریب کرنے والا اور دھوکا دینے والا قرار دیا ہے اور بعض الزام مجھ سے زیادہ لگائے گئے ہیں جیسے یہ کہ موسیٰ نے کئی لاکھ شیر خوار بچے قتل کرائے