تحفۂ گولڑویہ — Page 178
روحانی خزائن جلد ۱۷ ۱۷۸ تحفہ گولڑویہ محمد حسین صاحب کے ہاتھوں کو بوسہ دیا اور کہا یہ عالم ربانی ہے جس نے میرے اس منشاء کو سمجھا تب اتب مولوی محمد علی بو پڑی کھڑا ہوا اور کہا کہ میں تو سب سے زیادہ مسجدوں اور گلیوں اور کو چوں اور لوگوں کے گھروں میں اس شخص کو جو کہتا ہے کہ میں مسیح ہوں گالیاں دیا کرتا ہوں اور لعنت بھیجا کرتا ہوں اور ہر ایک وقت میرا کام ہے کہ ہر مجلس میں لوگوں کو اس شخص کی تو ہین و تحقیر ولعن و طعن کرنے کے لئے کہتا رہتا ہوں اور ہمیشہ انہی کاموں کے لئے سفر بھی کر کے ۵۴ ترغیب دیتا رہتا ہوں اور کوئی گالی نہیں کہ میں نے اُٹھا نہیں رکھی اور کوئی تو ہیں نہیں جو میں نے نہیں کی ۔ پس میرا کیا اجر ہے۔ تب اس پیغمبر صاحب نے بہت پیار کے جوش سے اُٹھ کر بو پڑی کو اپنے گلے لگا لیا اور کہا کہ تو میرا پیارا بیٹا ہے تو نے میرا انشاء سمجھا۔ غرض جیسا کہ حضرت خواب بین صاحب بیان فرماتے ہیں پنجاب کے تمام مولویوں کی کرسیاں اس دربار میں موجود تھیں اور ہر ایک فاخرہ لباس پہنے ہوئے نوابوں کی طرح بیٹھا تھا اور وہ پیغمبر صاحب ہر وقت اُن کا ہاتھ چومتے تھے کہ یہ ہیں میرے پیارے علماء ربانی خیر الناس على ظهر الارض اور پھر آگے چل کر ایک اور کرسی تھی اُس پر ایک اور مولوی صاحب کرسی پر کچھ چھپ کر بیٹھے ہوئے تھے اور آواز آرہی تھی کہ یہی ہیں خلیفہ شیخ بٹالوی محمد حسن لدھیانوی اور ساتھ اُن کے ایک اور کرسی تھی اور لوگ کہتے تھے کہ یہ مولوی واعظ محمود شاہ کی کرسی ہے جو کسی مناسبت سے مولوی محمد حسن کے ساتھ بچھائی گئی ۔ اور سب سے پیچھے ایک نابینا وزیر آبادی تھا جس کو عبدالمنان کہتے تھے اور اس کی کرسی سے انا المکفر کی زور کے ساتھ آواز آ رہی تھی ۔ غرض یہ خواب ہے جس میں ان تمام کرسی نشین مولوی صاحبوں کا ذکر ہے مگر یہ کرسیوں کی ترتیب میری طرف سے ہے جو اس خواب کے مناسب حال کی گئی لیکن خواب میں یہ حصہ داخل ہے کہ علماء پنجاب اس پیغمبر صاحب کے دربار میں بڑی تعظیم کے ساتھ کرسیوں پر بٹھائے گئے تھے اور تمام عالم امرتسری بٹالوی لاہوری لدھیانوی دہلوی وزیر آبادی بو پڑی گولڑوی وغیرہ اس دربار میں کرسیوں پر زینت بخش تھے۔ اور پیغمبر صاحب نے میری تکفیر اور ایذا اور توہین کی وجہ سے