تحفۂ گولڑویہ — Page 173
روحانی خزائن جلد۱۷ ۱۷۳ کرے کہ میری فلاں خواب بھی بچی نکلی اور فلاں موقع پر مجھے کشفی نظارہ ہو اوجہ یہ کہ انسان جب جمیع کمالات نبوت اور محدثیت اور اُن کے مقام محبوبیت پر بخوبی اطلاع پائے گا تو بہت آسانی سے اپنی اس غلطی پر متنبہ ہو جائے گا جیسا کہ وہ شخص جس نے کبھی سمندر نہیں دیکھا اور اپنے گاؤں کے ایک تھوڑے سے پانی کو سمندر کے برابر اور اس کے عجائبات سے ہم وزن خیال کرتا ہے ) جب اُس کا گذرسمندر پر ہوگا اور اس کی حقیقت سے اطلاع پائے گا تو بغیر نصیحت کسی ناصح کے خود بخود سمجھ جائے گا کہ میں ایک بڑی غلطی کے گرداب میں مبتلا تھا لیکن اگر خدانخواستہ انسانوں کی یہ صورت ہوتی کہ فیضان امور غیبیہ کا کچھ بھی مادہ اُن میں امانت نہ رکھا جاتا اور نہ یہ علم ہوتا کہ کبھی خدا کی طرف سے غیبی علوم اور اخبار کا فیضان بھی ہوا کرتا ہے تو وہ اس شخص کی طرح ہوتے جو مادر زاداندھا اور بہرہ ہو۔ پس اس صورت میں تمام انبیاء کو تبلیغ میں ناکامی ہوتی مثلاً جس اندھے نے کبھی روشنی نہیں دیکھی اس کو کس طرح سمجھا سکتے ہیں کہ روشنی کیا چیز ہے۔ فتدبر ولا تكن من العمين واسئل رحم الله ليفتح عینک وهو ارحم الراحمين۔ ہم تصریح سے لکھ آئے ہیں کہ یہ بات بالکل غیر ممکن ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام زندہ آسمان پر چلے گئے ہیں کیونکہ اس کا ثبوت نہ تو قرآن شریف سے ملتا ہے اور نہ حدیث سے اور نہ عقل اس کو باور کر سکتی ہے۔ بلکہ قرآن اور حدیث اور عقل متینوں اس کے مکذب ہیں کیونکہ قرآن شریف نے کھول کر بیان فرما دیا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں اور معراج کی حدیث نے ہمیں بتلا دیا ہے کہ وہ فوت شدہ انبیاء علیہم السلام کی روحوں میں جاملے ہیں اور اس عالم سے بکلی انقطاع کر گئے اور عقل ہمیں بتلا رہی ہے کہ اس جسم فانی کے لئے یہ سنت اللہ نہیں کہ آسمان پر چلا جائے اور باوجود زندہ مع الجسم ہونے کے کھانے پینے اور تمام لوازم حیات سے الگ ہو کر اُن روحوں میں جا ملے جو موت کا پیالہ پی کر دوسرے جہان میں پہنچ گئے ہیں ۔ عقل کے پاس اس کا کوئی نمونہ نہیں ۔ پھر ماسوا اس کے جیسا کہ یہ عقیدہ حضرت عیسی علیہ السلام کے آسمان پر