تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 172 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 172

۱۷۲ روحانی خزائن جلد ۱۷ ایک قسم کا انتشار روحانیت ہوتا ہے اور طبائع میں تیزی پیدا ہو جاتی ہے اور جن کے دل اور دماغ سچی خوابوں سے کچھ مناسبت رکھتے ہیں اُن کو کچی خوا ہیں آنی شروع ہو جاتی ہیں لیکن در پردہ یہ تمام انہی کے وجود باجود کی تاثیر ہوتی ہے جیسا کہ مثلاً جب برسات کے دنوں میں پانی برستا ہے تو کنوؤں کا پانی بھی بڑھ جاتا ہے اور ہر ایک قسم کا سبزہ نکلتا ہے لیکن اگر آسمان کا پانی چند سال تک نہ بر سے تو کنوؤں کا پانی بھی خشک ہو جاتا ہے۔ سو وہ لوگ در حقیقت آسمان کا پانی ہوتے ہیں اور ان کے آنے سے زمین کے پانی بھی اپنا سیلاب دکھلاتے ہیں اور اگر خدا تعالیٰ چاہتا تو ان زمین کے پانیوں کو نابود کر دیتا لیکن اس امر میں کہ کیوں دوسرے لوگوں کو بھی اُن کے وقت میں خواہیں سچی آتی ہیں یا کبھی کشفی نظارے ہوتے ہیں۔ بھید یہ ہے کہ اگر عام لوگوں کو باطنی کشوف سے کچھ بھی حصہ نہ ہوتا اور پھر جب اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں اور نبیوں اور محدثوں کو دنیا میں بھیجتا اور وہ بڑے بڑے پوشیدہ واقعات اور عالم مجازات اور غیب کی خبریں دیتے تو لوگوں کے دل میں یہ گمان گذر سکتا تھا کہ شائد وہ جھوٹے ہیں یا بعض امور میں نجوم وغیرہ سے مدد لیتے ہیں یا درمیان کوئی اور فریب ہے۔ پس خدا نے ان شبہات کے دُور کرنے کے لئے عام لوگوں میں رسولوں اور نبیوں کی جنس کا ایک مادہ رکھ دیا ہے اور نبوت کی بہت چیزوں اور بہت سی صفات لازمہ میں سے ایک صفت میں ان کو ایک حد تک شریک کر دیا ہے تا وہ لوگ خدا کے نبیوں اور مامورین اور ملہمین کی تصدیق کے لئے قریب ہو جائیں اور دلوں میں سمجھ لیں کہ یہ امور جائز اور ممکن ہیں تبھی تو ہم بھی کسی حد تک شریک ہیں اور اگر خدا تعالیٰ اس قدر بھی ان کو مادہ عطا نہ فرماتا تو عام لوگوں پر نبوت کا مسئلہ سمجھنا مشکل ہو جاتا اور اُن کی طبائع بہ نسبت اقرار کے انکار سے زیادہ قریب ہو تیں لیکن اب تمام عام لوگوں میں یہاں تک کہ فاسقوں اور فاجروں میں بھی علم غیب کا ایک مادہ ہے اس لئے اگر وہ تعصب کو کام میں نہ لائیں تو نبوت کی حقیقت کو بہت جلد سمجھ سکتے ہیں اور اس بات میں خطرہ بہت کم ہے کہ اگر کوئی ایسا خیال