تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 171 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 171

121 روحانی خزائن جلد ۷ ان کو عطا کی جاتی ہے اور ابراہیمی صدق وصفا اُن کو دیا جاتا ہے اور روح القدس کا سایہ اُن کے دلوں پر ہوتا ہے۔ وہ خدا کے ہو جاتے ہیں اور خدا اُن کا ہو جاتا ہے۔ ان کی دُعائیں خارق عادت طور پر آثار دکھاتی ہیں۔ اُن کے لئے خدا غیرت رکھتا ہے وہ ہر میدان میں اپنے مخالفوں پر فتح پاتے ہیں۔ اُن کے چہروں پر محبت الہی کا نور چمکتا ہے۔ اُن کے درودیوار پر خدا کی رحمت برستی ہوئی معلوم ہوتی ہے وہ پیارے بچے کی طرح خدا کی گود میں ہوتے ہیں۔ خدا اُن کے لئے اس شیر مادہ سے زیادہ غصہ ظاہر کرتا ہے جس کے بچے کو کوئی لینے کا ارادہ کرے۔ وہ گناہ سے معصوم ۔ وہ دشمنوں کے حملوں سے معصوم ۔ وہ تعلیم کی غلطیوں سے بھی معصوم ہوتے ہیں۔ وہ آسمان کے بادشاہ ہوتے ہیں۔ خدا عجیب طور پر اُن کی دعائیں سنتا ہے اور عجیب طور پر اُن کی قبولیت ظاہر کرتا ہے یہاں تک کہ وقت کے بادشاہ اُن کے دروازوں پر آتے ہیں۔ ذوالجلال کا خیمہ اُن کے دلوں میں ہوتا ہے اور ایک رعب خدائی اُن کو عطا کیا جاتا ہے اور شاہانہ استغنا اُن کے چہروں سے ظاہر ہوتا ہے۔ وہ دنیا اور اہل دنیا کو ایک مرے ہوئے کیڑے سے بھی کمتر سمجھتے (۵۰) ظاہر دنیا کو سے ہیں۔ فقط ایک کو جانتے ہیں اور اُس ایک کے خوف کے نیچے ہر دم گداز ہوتے رہتے ہیں۔ دنیا اُن کے قدموں پر گری جاتی ہے گویا خدا انسان کا جامہ پہن کر ظاہر ہوتا ہے وہ دنیا کا نور اور اس نا پائیدار عالم کا ستون ہوتے ہیں وہی سچا امن قائم کرنے کے شہزادے اور ظلمتوں کے دور کرنے کے آفتاب ہوتے ہیں۔ وہ نہاں در نہاں اور غیب الغیب ہوتے ہیں کوئی ان کو پہچانتا نہیں مگر خدا۔ اور کوئی خدا کو پہچانتا نہیں مگر وہ ۔ وہ خدا نہیں ہیں مگر نہیں کہہ سکتے کہ خدا سے الگ ہیں ۔ وہ ابدی نہیں ہیں مگر نہیں کہہ سکتے کہ کبھی مرتے ہیں۔ پس کیا ایک نا پاک اور خبیث آدمی جس کا دل گندہ، خیالات گندے، زندگی گندی ہے اُن سے مشابہت پیدا کر سکتا ہے؟ ہر گز نہیں مگر وہی مشابہت جو کبھی ایک چمکیلے پتھر کو ہیرے کے ساتھ ہو جاتی ہے۔ مردان خدا جب دنیا میں ظاہر ہوتے ہیں تو اُن کی عام برکات کی وجہ سے آسمان سے