تحفۂ گولڑویہ — Page 155
روحانی خزائن جلد ۱۷ ۱۵۵ میں اس کسوف خسوف کی خبر پا کر بڑا شور اٹھا تھا اور بڑی خوشیاں ہوئی تھیں اور نجمین نے یہ بھی گواہی دی ہے کہ اس کسوف خسوف میں ایک خاص ندرت تھی یعنی ایک بے مثل اجو بہ جس کی نظیر نہیں دیکھی گئی اور اسی ندرت کے دیکھنے کے لئے ہمارے اس ملک کے ایک حصہ میں انگریزی فلاسفروں کی طرف سے ایک رصد گاہ بنایا گیا تھا اور امریکہ اور یورپ کے دُور دُور کے ملکوں سے انگریزی منجم کسوف خسوف کی اس طرز عجیب کے دیکھنے کے لئے آئے تھے جیسا کہ اس خسوف کسوف کے ندرت کے حالات ان دنوں میں پرچہ سول ملٹری گزٹ اور ایسا ہی اور کئی انگریزی اخباروں میں اور نیز بعض اردو اخباروں میں بھی مفصل چھپے تھے۔ اورلیکھرام کے مارے جانے کا نشان بھی ایک ہیبت ناک نشان تھا جس میں پانچ برس پہلے اس واقعہ کی خبر دی گئی تھی اور پیشگوئی میں ظاہر کیا گیا تھا کہ وہ عید کے دوسرے دن مارا جائے گا۔ اور اس طرح پر قتل کا دن بھی متعین ہو گیا تھا اور اس کے ساتھ کسی قسم کی شرط نہ تھی اور ہزار سے زیادہ لوگ بول ۴۱ اُٹھے تھے کہ یہ پیشگوئی کمال صفائی سے پوری ہو گئی ۔ غرض ان دونوں نشانوں کی عظمت نے دلوں کو ہلا دیا تھا۔ نہ معلوم منکر خدا تعالیٰ کو کیا جواب دیں گے جنہوں نے ان چمکتے ہوئے نشانوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور ناحق ظلم سے اپنے پیروں کے نیچے کچل دیا۔ وَسَيَعْلَمُ الَّذِيْنَ ظَلَمُوا أَى مُنْقَلَبٍ يَنْقَلِبُونَ ، ہائے یہ لوگ کیوں نہیں دیکھتے کہ کیسے متواتر نشان ظاہر ہوتے جاتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی تائید میں کیسی نازل ہو رہی ہیں اور ایک خدائی قوت زمین پر کام کر رہی ہے۔ ہائے ! یہ کیوں نہیں سوچتے کہ اگر یہ کاروبار خدا کی طرف سے نہ ہوتا تو اس قدر عقلی اور عقلی اور کشفی طور پر ثبوت کے مواد ہرگز اس میں جمع نہ ہو سکتے۔ آسماں بارد نشاں الوقت می گوید زمیں باز بغض و کینه و انکار اینان را بہ ہیں اے ملامت گر خدا را بر زماں کن یک نظر چوں خدا خاموش ماندے در چنیں وقت خطر الشعراء: ۲۲۸