تحفۂ گولڑویہ — Page 152
روحانی خزائن جلد۱۷ ۱۵۲ اس کی گواہی دے گا مگر چونکہ نشانوں کے نیچے ہمیشہ ایک اشارہ ہوتا ہے گویا ان کے اندر ایک تصویری تفہیم منقوش ہوتی ہے اس لئے خدا نے اس کسوف خسوف کے نشان میں اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ علمائے محمدی جو چاند اور سورج کے مشابہ ہونے چاہیے تھے اس وقت اُن کا نور فراست جاتا رہے گا۔ اور مہدی کو شناخت نہیں کریں گے اور تعصب کے گرہن نے ان کے دل کو سیاہ کر دیا ہوگا۔ اس لئے اس امر کے اظہار کے لئے ماتمی نشان آسمان پر ظاہر ہوگا۔ پھر اسی نشان پر خدا نے بس نہیں کی بڑی بڑی فوق العادت پیشگوئیاں ظہور میں آئیں جیسا کہ لیکھرام والی پیشگوئی جس کی ساری برٹش انڈیا گواہ ہے کیسے شان اور شوکت سے ظہور میں آگئی اور باوجود ہزاروں طرح کی حفاظتوں اور ہشیاریوں کے کس طرح خدا کے ارادہ نے روز روشن میں اپنا کام کر دیا۔ ایسا ہی رسالہ انجام آتھم کی یہ پیشگوئی کہ عبد الحق غزنوی نہیں مرے گا جب تک کہ اس عاجز کا پسر چہارم پیدا نہ ہولے کس صفائی اور روشنی سے عبدالحق کی زندگی میں پوری ہوگئی اور ایسا ہی یہ پیشگوئی کہ اخویم مولوی حکیم نورالدین صاحب کے گھر میں ایک لڑکا پیدا ہو گا بعد ان لڑکوں کے جو سب مر گئے اور اس لڑکے کا تمام بدن پھوڑوں سے بھرا ہوا ہو گا چنانچہ ان پیشگوئیوں میں ایسا ہی ظہور میں آیا ۔ جس طور سے ۳۹ حجج الكرامہ میں لکھا ہے کہ مسیح اپنے دعاوی اور معارف کو قرآن سے استنباط کرے گا یعنی قرآن اس کی سچائی کی گواہی دے گا اور علماء وقت بعض حدیثوں کو پیش نظر رکھ کر اُس کی تکذیب کریں گے۔ اور مکتوبات امام ربانی میں لکھا ہے کہ مسیح موعود جب دنیا میں آئے گا تو علاء وقت بمقابلہ اس کے آمادہ مخالفت ہو جائیں گے کیونکہ جو باتیں بذریعہ اپنے استنباط اور اجتہاد کے وہ بیان کرے گا وہ اکثر دقیق اور غامض ہوں گی اور بوجہ دقت اور غموض ماخذ کے ان سب مولویوں کی نگاہ میں کتاب اور سنت کے برخلاف نظر آئیں گی حالانکہ حقیقت میں برخلاف نہیں ہوں گی۔ دیکھو صفحہ ۱۰۷ مکتوبات امام ربانی مطبع احمدی دہلی ۔ منہ