تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 151 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 151

روحانی خزائن جلد ۱۷ ۱۵۱ یہ نادان غصہ میں آیا اور تمام پاک اور چمکیلے جواہرات دامن سے پھینک دیئے اس خیال سے کہ ایک دو دانے اُن جواہرات میں سے اُس کے نزدیک بہت روشن نہیں ہیں۔ یہی حال ان لوگوں کا ہے کہ باوجود یکہ خدا تعالیٰ کی اکثر پیشگوئیاں کمال صفائی سے پوری ہو گئیں اُن سے کچھ فائدہ نہیں اٹھاتے جو سو سے بھی کچھ زیادہ ہیں۔ لیکن ایک دو ایسی پیشگوئیاں جن کی حقیقت کم بصیرتی سے ان کو سمجھ نہیں آئی اُن کا بار بار ذکر کر رہے ہیں ہر ایک مجلس میں اُن کو پیش کرتے ہیں۔اے مسلمانوں کی ذریت !تمہیں راستی سے بغض کرنا کس نے سکھایا جبکہ تمہاری آنکھوں کے سامنے خدانے وہ عجیب کام بکثرت دکھلائے جن کا دکھلانا انسان کی قدرت میں نہیں اور جو تمہارے باپ دادوں نے نہیں دیکھے تھے تو کیا ان نشانوں کو بھلا دینا اور دو تین پیشگوئیوں کی نسبت بیہودہ نکتہ چینیاں کرنا جائز تھا ؟ کیا تمہیں معلوم نہیں جو میری تصدیق کے لئے کیسا عظیم الشان نشان آسمان پر ظاہر ہوا۔ اور تیرہ سو برس کی انتظار کے بعد میرے ہی زمانہ میں میرے ہی دعوے کے عہد میں میری ہی تکذیب کے وقت خدا نے اپنے دو روشن نیروں سورج اور چاند کو رمضان کے مہینے میں بے نور کر دیا۔ یہ موجودہ علماء کے سلب نور اور ظلم پر ایک ماتمی نشان تھا اور مقررتھا کہ وہ مہدی کی تکذیب کے وقت ظاہر ہوگا۔ خدا کے پاک نبی ابتدا سے خبر دیتے آئے تھے کہ مہدی کے انکار کی وجہ سے یہ ماتمی نشان آسمان پر ظاہر ہوگا اور رمضان میں اس لئے کہ دین میں ظلمت اور ظلم روا رکھا گیا جیسا کہ آثار میں بھی آچکا ہے کہ مہدی پر کفر کا فتویٰ لکھا جائے گا۔ اور اس کا نام وقت کے علماء دجال اور کذاب اور مفتری اور بے ایمان رکھیں گے اور اُس کے قتل کے منصوبے ہوں گے۔ تب خدا جو آسمان کا خدا ہے جس کا قومی ہاتھ اُس کے گروہ کو ہمیشہ بچاتا ہے آسمان پر مہدی کی تائید کے لئے یہ نشان ظاہر کرے گا اور قرآن (۳۹)