تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 147 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 147

روحانی خزائن جلد ۱۷ ۱۴۷ کا ظہور چودھویں صدی کے سر پر ہونا ضروری تھا۔ ہاں اُس کی تقریر افغانی ہے یہ اس کا ترجمہ ہے۔ دوسرے صاحب جن کا نام گلزار خاں ہے جو سا کن موضع بڑا بیر علاقہ پشاور ہیں اور حال میں ایک موضع میں کوٹھہ شریف کے قریب رہتے ہیں اور اس موضع کا نام ٹوپی ہے یہ بزرگ بہت مدت تک حضرت صاحب کی خدمت میں رہے ہیں انہوں نے قسم کھا کر کہا کہ ایک دن حضرت صاحب عام مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے اور طبیعت اس وقت بہت خوش و خرم تھی ۔ فرمانے لگے کہ میرے بعض آشنا مہدی آخر الزمان کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے اشارہ یہ تھا کہ اسی ملک کے قریب مہدی ہوگا جس کو دیکھ سکیں گے ) اور پھر فرمایا کہ اُس کی باتیں اپنے کانوں سے سنیں گے۔ فقط ۔ اُس بزرگ کو جب کہ میں نے اس راز سے مطلع کیا کہ آپ کے حضرت کی یہ پیشگوئی سچی نکلی اور ایسا ہی وقوع میں آگیا ہے ( یعنی پیشگوئی کے منشاء کے موافق مہدی پنجاب میں پیدا ہو گیا ہے ) تو وہ بزرگ بہت رویا اور کہنے لگا کہ کہاں ہیں مجھ کو کسی طرح اُن کے قدموں تک پہنچاؤ اور میں بہ سبب ضعف بصارت کے جانہیں سکتا کیا کروں۔ پھر کہنے لگا کہ میر اسلام اُن کو پہنچانا اور دعا کرانی۔ پھر میں نے اُس سے وعدہ کیا کہ ضرور تمہارا سلام پہنچا دوں گا۔ اور دعا کا سوال بھی کروں گا۔ میں اُمید کرتا ہوں کہ ضرور اُس کے واسطے دعا کی جائے گی۔والسلام خیر ختام والله ثم تاللہ کہ ان دونوں شخصوں نے اسی طرح گواہی دی ہے ۔ محمد یکی از دیگراں ایسا ہی ایک اور خط مولوی حمید اللہ صاحب ملاً سوات کی طرف سے مجھے پہنچا ہے جس میں یہی گواہی بزبان فارسی ہے جس کا ترجمہ ذیل میں لکھتا ہوں :بخدمت شریف کا شف رموز نہانی واقف علوم ربانی جناب مرزا صاحب۔ عرضداشت یہ ہے کہ فضیلت پناہ جناب مولوی محمد بیٹی صاحب اخوان زادہ جو آپ کی خدمت میں ہو گئے ہیں اُن سے کئی دفعہ آپ کا ذکر جمیل در میان آیا آخر ایک روز با تیں کرتے کرتے مہدی اور