تحفۂ گولڑویہ — Page 141
روحانی خزائن جلد۱۷ ۱۴۱ تکذیب کرتے ہیں وہی محرک ہوتے ہیں۔ نشانوں کی یہی فلاسفی ہے اور یہ کبھی نہیں ہوتا کہ نشان تو آج ظاہر ہو اور جس کی تصدیق اور اس کے مخالفوں کے ڈب اور دفع کے لئے وہ نشان ہے وہ کہیں سویا دو سویا تین سو یا ہزار برس کے بعد پیدا ہو اور خود ظاہر ہے کہ ایسے نشانوں سے اس کے دعوے کو کیا مدد پہنچے گی بلکہ ممکن ہے کہ اس عرصہ تک اس نشان پر نظر رکھ کرکئی مدعی پیدا ہو جائیں تو اب کون فیصلہ کرے گا کہ کس مدعی کی تائید میں یہ نشان ظاہر ہوا تھا۔ تعجب ہے کہ مدعی کا تو ابھی وجود بھی نہیں اور نہ اس کے دعوے کا وجود ہے اور نہ خدا کی نظر میں کوئی محرک تکذیب کرنے والا موجود ہے بلکہ سود وسو یا ہر برس کے بعد انتظار ہے تو قبل از وقت نشان کیا فائدہ دے گا اور کس قوم کے لئے ہوگا کیونکہ موجودہ زمانہ کے لوگ تو ایسے نشان سے کچھ بھی فائدہ نہیں اٹھا سکتے جس کے ساتھ مدعی نہیں ہے اور جبکہ نشان کے دیکھنے والے بھی سب خاک میں مل جائیں گے اور کوئی زمین پر زندہ نہیں ہوگا جو یہ کہہ سکے کہ میں نے چاند اور سورج کو بچشم خود گرہن ہوتے دیکھا تو ایسے نشان سے کیا فائدہ مرتب ہوگا جو زندہ مدعی کے زمانہ کے وقت صرف ایک مردہ قصہ کے طور پر پیش کیا جائے گا اور خدا کو کیا ایسی جلدی پڑی تھی کہ کئی سو برس پہلے نشان ظاہر کر دیا اور ابھی مدعی کا نام ونشان نہیں ۔ نہ اس کے باپ دادے کا کچھ نام ونشان ۔ یہ بھی یادرکھو کہ یہ عقیدہ اہل سنت اور شیعہ کا مسلم ہے کہ مہدی جب ظاہر ہوگا تو صدی کے سر پر ہی ظاہر ہوگا ۔ پس جبکہ مہدی کے ظہور کے لئے صدی کے سر کی شرط ہے تو اس صدی میں تو مہدی کے پیدا ہونے سے ہاتھ دھو رکھنا چاہیے کیونکہ صدی کا سر گذر گیا اور اب بات دوسری صدی پر جاپڑی اور اس کی نسبت بھی کوئی قطعی فیصلہ نہیں کیونکہ جب کہ چودھویں صدی جو حدیث نبوی کا مصداق تھی اور نیز اہل کشف کے کشفوں سے لدی ہوئی تھی خالی گذرگئی تو پندرھویں صدی پر کیا اعتبار رہا۔ پھر جبکہ آنے والے مہدی کے ظہور کے کوئی لچھن نظر نہیں آتے اور کم سے کم سو برس پر بات جا پڑی تو اس بے ہودہ نشان خسوف کسوف سے فائدہ کیا ہوا۔ جب اس صدی کے سب لوگ مرجائیں گے اور کوئی