تحفۂ گولڑویہ — Page 140
روحانی خزائن جلد۱۷ ۱۴۰ کہتے ہیں وہ تو خود ہی مشکل سے نظر آتا ہے۔ اسی وجہ سے ہمیشہ عیدوں پر جھگڑے ہوتے ہیں۔ ☆ پس اس غریب بے چارہ کا گرہن کیا ہوگا۔ کیا پدی کیا پدی کا شور با " تیسرا اعتراض اس نشان کو مٹانے کے لئے یہ پیش کیا گیا ہے کہ کیا ممکن نہیں کہ کسوف خسوف تو اب رمضان میں ہو گیا ہومگر مہدی جس کی تائید اور شناخت کے لئے خسوف کسوف ہوا ہے وہ پندرھویں صدی میں پیدا ہو یا سولہویں صدی میں یا اس کے بعد کسی اور صدی میں ۔ اس کا ۳۲ جواب یہ ہے کہ اے بزرگو! خدا ہی تم پر رحم کرے جبکہ آپ لوگوں کی فہم کی یہاں تک نوبت پہنچ گئی ہے تو میرے اختیار میں نہیں کہ میں کچھ سمجھا سکوں ۔ صاف ظاہر ہے کہ خدا کے نشان اس کے رسولوں اور ماموروں کی تصدیق اور شناخت کے لئے ہوتے ہیں اور ایسے وقت میں ہوتے ہیں جبکہ اُن کی سخت تکذیب کی جاتی ہے اور ان کو مفتری اور کافر اور فاسق قرار دیا جاتا ہے تب خدا کی غیرت اُن کے لئے جوش مارتی ہے اور وہ چاہتا ہے کہ اپنے نشانوں سے صادق کو صادق کر کے دکھلاوے۔ غرض ہمیشہ آسمانی نشانوں کے لئے ایک محرک کی ضرورت ہوتی ہے اور جولوگ بار بار یادر ہے کہ کسی حدیث کی سچائی پر اس سے زیادہ کوئی یقینی اور قطعی گواہی نہیں ہو سکتی کہ وہ حدیث اگر کسی پیشگوئی پر مشتمل ہے تو وہ پیشگوئی صفائی سے پوری ہو جائے کیونکہ اور سب طریق اثبات صحت حدیث کے ظنی ہیں مگر یہ حدیث کا ایک چمکتا ہوا زیور ہے کہ اس کی سچائی کی روشنی پیشگوئی کے پورے ہونے سے ظاہر ہو جائے کیونکہ کسی حدیث کی پیشگوئی کا پورا ہو جانا اس حدیث کو مرتبہ خن سے یقین کے اعلیٰ درجہ تک پہنچا دیتا ہے اور ایسی حدیث کے ہم رتبہ اور یقینی مرتبہ میں ہم پلہ کوئی حدیث نہیں ہو سکتی گو بخاری کی ہو یا مسلم کی ۔ اور ایسی حدیث کے سلسلہ اسناد میں گو بفرض محال ہزار کذاب اور مفتری ہو اس کی قوت صحت اور مرتبہ یقین کو کچھ بھی ضرر نہیں پہنچا سکتا کیونکہ و سائل محسوسہ مشہودہ بدیہ سے اُس کی صحت کھل جاتی ہے اور ایسی کتاب کا یہ امر فخر ہو جاتا ہے اور اس کی صحت پر ایک دلیل قائم ہو جاتی ہے جس میں ایسی حدیث ہو پس دار قطنی کا فخر ہے جس کی حدیث ایسی صفائی سے پوری ہوگئی۔ منہ