تحفۂ گولڑویہ — Page 139
روحانی خزائن جلد۱۷ ۱۳۹ خدا سے ڈرو جبکہ حدیث میں قمر کا لفظ موجود ہے اور بالا تفاق قمر اُس کو کہتے ہیں جو تین دن کے بعد یا سات دن کے بعد کا چاند ہوتا ہے تو اب ہلال کو کیونکر قمر کہا جائے۔ ظلم کی بھی تو کوئی حد ہوتی ہے پھر ظاہر ہے کہ جبکہ قمر کے گرہن کے لئے تین راتیں خدا کے قانونِ قدرت میں موجود ہیں اور پہلی رات چاند کے خسوف کی تین راتوں میں سے مہینہ کی تیرھویں رات ہے اور ایسا ہی سورج کے گرہن کے لئے خدا کے قانون قدرت میں تین دن ہیں اور بیچ کا دن سورج کے کسوف کے دنوں میں سے مہینہ کی اٹھائیسویں تاریخ ہے تو یہ معنے کیسے صاف اور سیدھے اور سریع الفہم اور قانونِ قدرت پر بنی ہیں کہ مہدی کے ظہور کی یہ نشانی ہوگی کہ چاند کو اپنے گرہن کی مقررہ راتوں میں سے جو اس کے لئے خدا نے ابتدا سے مقرر کر رکھی ہیں پہلی رات میں گرہن لگ جائے گا یعنی مہینہ کی تیرھویں رات جو گرہن کی مقررہ راتوں میں سے پہلی رات ہے۔ ایسا ہی سورج کو اپنے گرہن کے مقررہ دنوں میں سے بیچ کے دن میں گرہن لگے گا یعنی مہینہ کی اٹھائیسویں تاریخ کو جو سورج کے گرہن کا ہمیشہ نیچ کا دن ہے کیونکہ خدا کے قانونِ قدرت کے رو سے ہمیشہ چاند کا گرہن تین راتوں میں سے کسی رات میں ہوتا ہے یعنی ۱۳ ۱۴ و ۱۵ ۔ ایسا ہی سورج کا گرہن اُس کے تین مقررہ دنوں میں سے کبھی باہر نہیں جاتا یعنی مہینہ کا ۲۷ و ۲۸ و ۲۹۔ پس چاند کے گرہن کا پہلا دن ہمیشہ سترھویں تاریخ سمجھا جاتا ہے اور سورج کے گرہن کا بیچ کا دن ہمیشہ مہینہ کی ۲۸ تاریخ ۔ عقلمند جانتا ہے۔ اب ایسی صاف پیشگوئی میں بحث کرنا اور یہ کہنا کہ قمر کا گرہن مہینہ کی پہلی رات میں ہونا چاہیے تھا یعنی جبکہ کنارہ آسمان پر ہلال نمودار ہوتا ہے یہ کس قدر ظلم ہے ۔ کہاں ہیں رونے والے جو اس قسم کی عقلوں کو روویں یہ بھی خیال نہیں کرتے کہ پہلی تاریخ کا چاند جس کو ہلال سہو کتابت معلوم ہوتا ہے” تیرھویں “ ہونا چاہیے۔(ناشر)