تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 136 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 136

۱۳۶ روحانی خزائن جلد ۱۷ کی گئی ہوگی اور اس صورت کا نشان اول سے آخر تک کبھی دنیا میں ظاہر نہیں ہوا ہو گا اور میں دعوے سے کہتا ہوں کہ آپ ہر گز اس کی نظیر پیش نہیں کر سکیں گے ۔ درحقیقت آدم سے لے کر اس وقت تک کبھی اس قسم کی پیشگوئی کسی نے نہیں کی اور یہ پیشگوئی چار پہلو رکھتی ہے۔ (1) یعنی چاند کا گرہن اس کی مقررہ راتوں میں سے پہلی رات میں ہونا (۲) سورج کا گرہن اس کے مقررہ دنوں میں سے بیچ کے دن میں ہونا (۳) تیسرے یہ کہ رمضان کا مہینہ ہونا (۴) چوتھے مدعی کا موجود ہونا جس کی تکذیب کی گئی ہو۔ پس اگر اس پیشگوئی کی عظمت کا انکار ہے تو دنیا کی تاریخ میں سے اس کی نظیر پیش کرو اور جب تک نظیر نہ مل سکے تب تک یہ پیشگوئی ان تمام پیشگوئیوں سے اول درجہ پر ہے جن کی نسبت آیت لَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِةٍ أَحَدًا کا مضمون صادق آسکتا ہے کیونکہ اس میں بیان کیا گیا ہے کہ آدم سے اخیر تک اس کی نظیر نہیں ۔ پھر جبکہ ایک حدیث دوسری حدیث سے قوت پا کر پائیہ یقین کو پہنچ جاتی ہے تو جس حدیث نے خدا تعالیٰ کے کلام سے قوت پائی ہے اُس کی نسبت یہ زبان پر لانا کہ وہ موضوع اور مردود ہے انہی لوگوں کا کام ہے جن کو خدا تعالیٰ کا خوف نہیں ہے اگر چہ بباعث کثرت اور کمال شہرت کے اس حدیث کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک رفع نہیں کیا گیا اور نہ اس کی ضرورت سمجھی گئی مگر خدا نے اپنی دو گواہیوں سے یعنی آیت لَا يُظْهِرُ الخ اور آیت ۔ جُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ سے خود اس حدیث کو مرفوع متصل بنا دیا۔ سو بلا شبہ قرآنی شہادت ۳۰ سے اب یہ حدیث مرفوع متصل ہے کیونکہ قرآن ایسی تمام پیشگوئیوں کا جو کمال صفائی سے پوری ہو جائیں اس تہمت سے تبریہ کرتا ہے کہ بجز خدا کے رسول کے کوئی اور شخص ان کا بیان کرنے والا ہے۔ نعوذ باللہ یہ خدا کے کلام کی تکذیب ہے کہ وہ تو صاف لفظوں میں بیان فرمادے کہ میں صریح اور صاف پیشگوئیوں کے کہنے پر بجز اپنے رسول کے کسی کو قدرت نہیں دیتا لیکن اس کے بر خلاف کوئی اور یہ دعوی کرے کہ ایسی پیشگوئیاں کوئی اور بھی کر سکتا ہے الجن : ۲۷ القيامة : ١٠