تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 135 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 135

روحانی خزائن جلد۱۷ ۱۳۵ مِنْ رَّسُونِ لے قطعی اور یقینی طور پر ماننا پڑا کہ یہ حدیث رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کی ہے اور اس کا راوی بھی عظیم الشان ائمہ میں سے ہے یعنی امام محمد باقر رضی اللہ عنہ۔ تو اب بعد شہادت قرآن شریف کے جو آیت لَا يُظْهِرُ عَلى غَيْبةٍ أَحَدًا سے اس حدیث کے منجانب رسول ہونے پر مل گئی ہے پھر بھی اس کو حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ سمجھنا کیا یہ دیانت کا طریق ہے؟ اور کیا آپ لوگوں کے نزدیک اس اعلیٰ درجہ کی پیشگوئی پر بجز خدا کے رسولوں کے کوئی اور بھی قادر ہو سکتا ہے؟ اور اگر نہیں ہو سکتا تو کیوں اس بات کا اقرار نہیں کرتے کہ قرآنی شہادت کے رو سے یہ حدیث رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے اور اگر آپ لوگوں کے نزدیک ایسی پیشگوئی پر کوئی دوسرا بھی قادر ہو سکتا ہے تو پھر آپ اس کی نظیر پیش کریں جس سے ثابت ہو کہ کسی مفتری یا رسول کے سوا کسی اور نے کبھی یہ پیشگوئی کی ہو کہ ایک زمانہ آتا ہے جس میں فلاں مہینے میں چاند اور سورج کا خسوف کسوف ہوگا اور فلاں فلاں تاریخوں میں ہوگا اور یہ نشان کسی مامور من اللہ کی تصدیق کے لئے ہوگا جس کی تکذیب حمد یاد رکھنا چاہئے کہ قرآن شریف کی گواہی صحت حدیث کسوف خسوف کی نسبت صرف ایک گواہی نہیں ہے بلکہ دو گواہیاں ہیں ایک تو یہ آیت کہ وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ جو پیاولی کے طور پر بتلا رہی ہے کہ قیامت کے قریب جو مہدی آخر الزمان کے ظہور کا وقت ہے چاند اور سورج کا ایک ہی مہینہ میں گرہن ہوگا۔ دوسری گواہی اس حدیث کی صحیح اور مرفوع متصل ہونے پر آیت لَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِةٍ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَّسُولٍ میں ہے کیونکہ یہ آیت علم غیب صحیح اور صاف کا رسولوں پر حصر کرتی ہے جس سے بالضرورت متعین ہوتا ہے کہ ان لمهدينا کی حدیث بلا شبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے۔ منہ ٣۔١ الجن : ۲۸،۲۷ القيامة : ١٠