تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 134 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 134

روحانی خزائن جلد۱۷ ۱۳۴ محدث کی کتاب سے اس حدیث کا موضوع ہونا ثابت کر سکو تو ہم فی الفور ایک سو روپیہ بطور انعام تمہاری نذر کریں گے جس جگہ چا ہو امانتا پہلے جمع کرالو ورنہ خدا سے ڈرو جو میرے بغض کے لئے صحیح حدیثوں کو جو علمائے ربانی نے لکھی ہیں موضوع ٹھہراتے ہو حالانکہ امام بخاری نے تو بعض روافض اور خوارج سے بھی روایت لی ہے ان تمام حدیثوں کو کیوں صحیح جانتے ہو؟ غرض ناظرین کے لئے یہ فیصلہ کھلا کھلا ہے کہ اگر کوئی شخص اس حدیث کو موضوع قرار دیتا ہے تو وہ اکابر محدثین کی شہادت سے ثبوت پیش کرے۔ ہم حتمی وعدہ کرتے ہیں کہ ہم اس کو ایک سو روپیہ بطور انعام دے دیں گے۔ خواہ یہ روپیہ بھی مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب کے پاس اپنی تسلی کے لئے بشرائط مذکورہ بالا جمع کرالو اور اگر یہ حدیث موضوع نہیں اور افترا کی تہمت سے اس کا دامن پاک ہے تو تقویٰ اور ایمانداری کا یہی تقاضا ہونا چاہیے کہ اس کو قبول کر لو۔ محدثین کا ہر گز یہ قاعدہ نہیں ہے کہ کسی راوی کی نسبت ادنی جرح سے ہی فی الفور حدیث کو موضوع قرار دیا جائے۔ بھلا جن حدیثوں کی رو سے مہدی خونی کو مانا جاتا ہے وہ کس مرتبہ کی ہیں؟ آیا اُن کے تمام راوی جرح سے خالی ہیں؟ بلکہ جیسا کہ ابن خلدون نے لکھا ہے تمام اہل حدیث جانتے ہیں کہ مہدی کی حدیثوں میں سے ایک حدیث بھی جرح سے خالی نہیں ۔ پھر ان مہدی کی حدیثوں کو ایسا قبول کر لینا کہ گویا اُن کا انکار کفر ہے حالانکہ وہ سب کی سب جرح سے بھری ہوئی ہیں۔ اور ایک ایسی حدیث سے انکار کرنا جو اور طریقوں سے بھی ثابت ہے اور جو خود قرآن آیت جُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ میں اس کے مضمون کا مصدق ہے کیا یہی ایمانداری ہے؟ حدیثوں کے جمع کرنے والے ہر ایک جرح سے حدیث کو نہیں پھینک دیتے تھے ورنہ ان کے لئے مشکل ہو جاتا کہ اس التزام سے تمام اخبار و آثار کو اکٹھا کر سکتے۔ یہ باتیں سب کو معلوم ہیں مگر اب بخل جوش ماررہا ہے ۔ ماسوا اس کے جبکہ مضمون اس حدیث کا جو غیب کی خبر پر مشتمل ہے پورا ہو گیا تو بموجب آیت کریمہ لا يُظهِرُ عَلَى غَيْبِةٍ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَى القيامة : ١٠