تحفۂ گولڑویہ — Page 131
روحانی خزائن جلد۱۷ ۱۳۱ نیز کئی اور قرائن کے رو سے بھی مولوی نواب صدیق حسن خان صاحب مرحوم اپنی کتاب (۲۷) حجج الکرامہ میں لکھتے ہیں کہ میں بلحاظ قرائن تو یہ گمان کرتا ہوں کہ چودھویں صدی کے سر پر مہدی معہود کا ظہور ہوگا۔ اور ان قرائن میں سے ایک یہ ہے کہ تیرھویں صدی میں بہت سے دجالی فتنے ظہور میں آگئے ہیں۔ اب دیکھو کہ اس نامی مولوی نے جو بہت سی کتابوں کا مؤلف بھی ہے کیسی صاف گواہی دے دی کہ چودھویں صدی ہی مہدی اور مسیح کے ظاہر ہونے کا وقت ہے اور صرف اسی پر بس نہیں کی بلکہ اپنی کتاب میں اپنی اولاد کو وصیت بھی کرتا ہے کہ اگر میں مسیح موعود کا زمانہ نہ پاؤں تو تم میری طرف سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا السلام علیکم مسیح موعود کو پہنچا دو مگر افسوس کہ یہ تمام باتیں صرف زبان سے تھیں اور دل انکار سے خالی نہ تھا اگر وہ میرے دعویٰ مسیح موعود ہونے کا زمانہ پاتے تو ظاہر قرائن سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھی اپنے دوسرے بھائیوں علماء سے لعن و طعن اور تکفیر و تکذیب اور تفسیق میں شریک ہو جاتے ۔ کیا ان مولویوں نے چودھویں صدی کے آنے پر کچھ غور بھی کی ؟ کچھ خوف خدا اور تقویٰ سے بھی کام لیا؟ کون سا حملہ ہے جو نہیں کیا اور کون کسی تکذیب اور تو ہین ہے جو ان سے ظہور میں نہیں آئی اور کونسی گالی ہے جس سے زبان کو روکے رکھا ۔ اصل بات یہ ہے کہ جب تک کسی دل کو خدا نہ کھولے کھل نہیں سکتا اور جب تک وہ قادر کریم خود اپنے فضل سے بصیرت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو مسیح موعود کو السلام علیکم پہنچایا یہ درحقیقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ایک پیشگوئی ہے نہ عوام کی طرح معمولی سلام ۔ اور پیشگوئی یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بشارت دیتے ہیں کہ جس قدر مخالفین کی طرف سے فتنے اٹھیں گے اور کافر اور دقبال کہیں گے اور عزت اور جان کا ارادہ کریں گے اور قتل کیلئے فتوے لکھیں گے خدا ان سب باتوں میں ان کو نا مرا در کھے گا اور تمہارے شامل حال سلامتی رہے گی۔ اور ہمیشہ کے لئے عزت اور بزرگی اور قبولیت اور ہریک ناکامی سے سلامتی صفحہ دنیا میں محفوظ رہے گی جیسا کہ السلام علیکم کا مفہوم ہے ۔ منہ