تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 122 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 122

۱۲۲ روحانی خزائن جلد ۱۷ اور نکمی ہو کہ جب کسی فتنہ کے دور کرنے کا موقع آوے تو اس کے دور کرنے کے لئے کوئی شخص باہر سے مامور ہو اور اس اُمت میں کوئی ایسا لائق نہ ہو کہ اس فتنہ کو دور کر سکے گویا اس امت کی اس صورت میں وہ مثال ہوگی کہ مثلاً کوئی گورنمنٹ ایک نیا ملک فتح کرے جس کے باشندے جاہل اور نیم وحشی ہوں تو آخر اس گورنمنٹ کو مجبوری سے یہ کرنا پڑے کہ اس ملک کے مالی اور دیوانی اور فوجداری کے انتظام کے لئے باہر سے لائق آدمی طلب کر کے معزز عہدوں پر ممتاز کرے۔ سو ہر گز عقل سلیم قبول نہیں کر سکتی کہ جس امت کے ربانی علماء کی نسبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے کہ علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل یعنی میری امت کے علماء اسرائیلی پیغمبروں کی طرح ہیں اخیر پر ان کی یہ ذلت ظاہر کرے کہ دجال جو خدائے عظیم القدرت کی نظر میں کچھ بھی چیز نہیں اس کے فتنہ کے فرو کرنے کے لئے اُن میں مادہ لیاقت نہ پایا جائے۔ اس لئے ہم اسی طرح پر جیسا کہ آفتاب کو دیکھ کر پہچان لیتے ہیں کہ یہ آفتاب ہے اس آیت كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ لے کو پہچانتے ہیں اور اس کے یہی معنے کرتے ہیں کہ کنتم خیــر امة اخرجت لشر الناس الذى هو الدجال المعهود۔ یادر ہے کہ ہر ایک اُمت سے ایک خدمت دینی لی جاتی ہے اور ایک قسم کے دشمن کے ساتھ اس کا مقابلہ پڑتا ہے سو مقدر تھا کہ اس اُمت کا دجال کے ساتھ مقابلہ پڑے گا جیسا کہ حدیث نافع بن عتبہ سے مسلم میں صاف لکھا ہے کہ تم دجال کے ساتھ لڑو گے اور فتح پاؤ گے۔ اگر چہ صحابہ دجّال کے ساتھ نہیں لڑے مگر حسب منطوق آخرين منهم مسیح موعود اور اس کے گروہ کو صحابہ قرار دیا۔ اب دیکھو اس حدیث میں بھی لڑنے والے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عن نافع بن عتبة قال قال رسول الله صلعم تغزون جزيرة العرب فيفتحها الله ثم | فارس فيفتحها الله ثم تغزون الروم فيفتحها الله ثم تغزون الدجال فيفتحها الله۔ ☆ ال عمران رواه مسلم مشكوة شريف باب الملاحم صفحه ۴۶۶ مطبع مجتبائی دہلی ۔ منہ