تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 123 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 123

روحانی خزائن جلد۱۷ ۱۲۳ اپنے صحابہ کو جو امت ہیں قرار دیا۔ اور یہ نہ کہا کہ مسیح بنی اسرائیلی لڑے گا اور نزول کا لفظ محض اجلال اور اکرام کے لئے ہے۔ اور اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ چونکہ اس پر فساد زمانہ میں ایمان ثریا پر چلا جائے گا اور تمام پیری مریدی اور شاگردی استادی اور افادہ استفادہ معرض زوال میں آجائے گا اس لئے آسمان کا خدا ایک شخص کو اپنے ہاتھ سے تربیت دے کر بغیر توسط زمینی سلسلوں کے زمین پر بھیجے گا جیسے کہ بارش آسمان سے بغیر توسط انسانی ہاتھوں کے نازل ہوتی ہے۔ اور منجملہ دلائل تو یہ قطعیہ کے جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں جو مسیح موعود اسی اُمت محمدیہ میں سے ہوگا قرآن شریف کی یہ آیت ہے۔ وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا (۲۳) الصَّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ الخ یعنی خدا تعالیٰ نے ان لوگوں کے لئے جو ایماندار ہیں اور نیک کام کرتے ہیں وعدہ فرمایا ہے جو ان کو زمین پر انہی خلیفوں کی مانند جو اُن سے پہلے گزر چکے ہیں خلیفے مقرر فرمائے گا اس آیت میں پہلے خلیفوں سے مراد حضرت موسیٰ کی امت میں سے خلیفے ہیں جن کو خدا تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کی شریعت کو قائم کرنے کے لئے پے در پے بھیجا تھا اور خاص کر کسی صدی کو ایسے خلیفوں سے جو دین موسوی کے مجدد تھے خالی نہیں جانے دیا تھا اور قرآن شریف نے ایسے خلیفوں کا شمار کر کے ظاہر فرمایا ہے کہ وہ باراں ہیں اور تیرھواں حضرت عیسی علیہ السلام ہیں جو موسوی شریعت کا مسیح موعود ہے ۔ اور اس مماثلت کے لحاظ سے جو آیت مدوحہ میں كَمَا کے لفظ سے مستنبط ہوتی ہے ضروری تھا کہ محمدی خلیفوں کو موسوی خلیفوں سے مشابہت و مماثلت ہو ۔ سو اسی مشابہت کے ثابت اور تحقیق کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں بارہ موسوی خلیفوں کا ذکر فرمایا جن میں سے ہر ایک حضرت موسیٰ کی قوم میں سے تھا اور تیرھواں حضرت عیسی علیہ السلام کا ذکر فرمایا جو موسیٰ کی قوم کا خاتم الانبیا ء تھا مگر در حقیقت موسیٰ کی قوم میں سے نہیں تھا اور پھر خدا نے محمدی سلسلہ کے خلیفوں کو موسوی النور : ۵۶