تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 120 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 120

روحانی خزائن جلد ۱۷ ۱۲۰ شرط کے مخالف ہو وہ قبول کے لائق نہیں۔ اور منجملہ ان دلائل کے جن سے ثابت ہوتا ہے کہ مسیح موعود اسی امت میں سے ہوگا ۲۱) قرآن شریف کی یہ آیت ہے۔ كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةِ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ ۔ اس کا ترجمہ یہ ہے کہ تم بہترین امت ہو جو اس لئے نکالی گئی ہو کہ تا تم تمام دجالوں اور دجال معہود کا فتنہ فروکر کے اور اُن کے شر کو دفع کر کے مخلوق خدا کو فائدہ پہنچاؤ ۔ واضح رہے کہ قرآن شریف میں الناس کا لفظ بمعنی دجال معہود بھی آتا ہے اور جس جگہ ان معنوں کو قرینہ قویہ متعین کرے تو پھر اور معنے کرنا معصیت ہے چنانچہ قرآن شریف کے ایک اور مقام میں الناس کے معنے دجال ہی لکھا ہے اور وہ یہ ہے۔ لَخَلْقُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ أَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ ۔ یعنی جو کچھ آسمانوں اور زمین کی بناوٹ میں اسرار اور عجائبات پر ہیں دجال معہود کی طبائع کی بناوٹ اس کے برابر نہیں یعنی گو وہ لوگ اسرار زمین و آسمان کے معلوم کرنے میں کتنی ہی جانکا ہی کریں اور کیسی ہی طبع وقا دلا دیں پھر بھی ان کی طبیعتیں ان اسرار کے انتہا تک پہنچ نہیں سکتیں ۔ یادر ہے کہ اس جگہ بھی مفسرین نے الناس سے مراد د جال معہود ہی لیا ہے دیکھو تفسیر معالم وغیرہ اور قرینہ قویہ اس پر یہ ہے کہ لکھا ہے کہ دجال معہود اپنی ایجادوں اور صنعتوں سے خدا تعالیٰ کے کاموں پر ہاتھ ڈالے گا اور اس طرح پر خدائی کا دعوی کرے گا اور اس بات کا سخت حریص ہوگا کہ خدائی باتیں جیسے بارش برسانا اور پھل لگانا اور انسان وغیرہ حیوانات کی نسل جاری رکھنا اور سفر اور حضر اور صحت کے سامان فوق العادت طور پر انسان کے لئے مہیا کرنا ان تمام باتوں میں قادرِ مطلق کی طرح کا رروائیا کرے اور سب کچھ اس کے قبضہ قدرت میں ہو جائے اور کوئی بات اس کے آگے انہونی نہ رہے اور اسی کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے اور خلاصہ مطلب آیت یہ ہے کہ زمین آسمان میں جس قدر اسرار رکھے گئے ہیں جن کو دجال بذریعہ علم طبعی اپنی قدرت میں کرنا چاہتا ہے وہ اسرار اُس کے اندازہ جودت طبع اور مبلغ علم سے بڑھ کر ہیں اور جیسا کہ آیت ممدوحہ میں الناس کے لفظ سے ال عمران: ااا المؤمن : ۵۸