تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 119 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 119

روحانی خزائن جلد۱۷ 119 اب اس کے برخلاف اگر یہ دعویٰ کیا جائے کہ حضرت عیسی بنی اسرائیلی جس پر انجیل نازل ہوئی تھی وہی دنیا میں دوبارہ آکر امتی بن جائیں گے تو یہ ایک نیا دعوی ہے جو ظا ہر نص کے برخلاف ہے اس لئے قومی ثبوت کو چاہتا ہے کیونکہ دعوی بغیر دلیل کے قابل پذیرائی نہیں اور ایک دوسرا قرینہ اس پر یہ ہے کہ صحیح بخاری میں جو اصح الکتب بعد کتاب اللہ کہلاتی ہے حضرت عیسی علیہ السلام کا حلیہ سرخ رنگ لکھا ہے جیسا کہ عام طور پر شامی لوگوں کا ہوتا ہے ایسا ہی اُن کے بال بھی خمدار لکھے ہیں مگر آنے والے مسیح کا رنگ ہر ایک حدیث میں گندم گوں لکھا ہے اور بال سیدھے لکھے ہیں اور تمام کتاب میں یہی التزام کیا ہے کہ جہاں کہیں حضرت عیسی نبی علیہ السلام کے حلیہ لکھنے کا اتفاق ہوا ہے تو ضرور بالالتزام اُس کو احمر یعنی سرخ رنگ لکھا ہے اور اس احمر کے لفظ کو کسی جگہ چھوڑا نہیں ۔ اور جہاں کہیں آنے والے مسیح کا حلیہ لکھنا پڑا ہے تو ہر ایک جگہ بالالتزام اس کو آدم یعنی گندم گوں لکھا ہے یعنی امام بخاری نے جو لفظ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لکھے ہیں جس میں ان دونوں مسیحوں کا ذکر ہے وہ ہمیشہ اس قاعدہ پر قائم رہے ہیں جو حضرت عیسی بنی اسرائیلی کے لئے احمر کا لفظ اختیار کیا ہے اور آنے والے مسیح کی نسبت آدم یعنی گندم گوں کا لفظ اختیار کیا ہے۔ پس اس التزام سے جس کو کسی جگہ صحیح بخاری کی حدیثوں میں ترک نہیں کیا گیا بجز اس کے کیا نتیجہ نکل سکتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک عیسی ابن مریم بنی اسرائیلی اور تھا۔ اور آنے والا مسیح جو اسی امت میں سے ہوگا اور ہے ورنہ اس بات کا کیا جواب ہے کہ تفريق خلیتین کا پورا التزام کیوں کیا گیا۔ ہم اس بات کے ذمہ وار نہیں ہیں اگر کسی اور محدث نے اپنی ناواقفی کی وجہ سے احمد کی جگہ آدم اور آدم کی جگہ احمر لکھ دیا ہومگر امام بخاری جو حافظ حدیث اور اول درجہ کا نقاد ہے اُس نے اس بارے میں کوئی ایسی حدیث نہیں لی جس میں مسیح بنی اسرائیلی کو آدم لکھا گیا ہو یا آنے والے مسیح کو احمر لکھا گیا ہو بلکہ امام بخاری نے نقل حدیث کے وقت اس شرط کو عمد الیا ہے اور برابر اول سے آخر تک اس کو محوظ رکھا ہے۔ پس جو حدیث امام بخاری کی