تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 118 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 118

۱۱۸ روحانی خزائن جلد۱۷ سندی سادات دہلی میں سے ہیں میر درد کے خاندان سے تعلق رکھنے والے۔ اسی فاطمی تعلق کی طرف اس کشف میں اشارہ ہے جو آج سے تمہیں برس پہلے براہین احمدیہ میں شائع کیا گیا جس میں دیکھا تھا کہ حضرات پنج تن سید الکونین حسنین فاطمتہ الزہراء اور علی رضی اللہ عنہ عین بیداری میں آئے اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کمال محبت اور مادرانہ عطوفت کے رنگ میں اس خاکسار کا سر اپنی ران پر رکھ لیا اور عالم خاموشی میں ایک غمگین صورت بنا کر بیٹھے رہے۔ اُسی روز سے مجھ کو اس خونی آمیزش کے تعلق پر یقین کلّی ہوا۔ فالحمدللہ علی ذالک۔ غرض میرے وجود میں ایک حصہ اسرائیلی ہے اور ایک حصہ فاطمی ۔ اور میں دونوں مبارک پیوندوں سے مرکب ہوں اور احادیث اور آثار کو دیکھنے والے خوب جانتے ہیں کہ آنے والے مہدی آخر الزمان کی نسبت یہی لکھا ہے کہ وہ مرکب الوجود ہو گا ۔ ایک حصہ بدن کا اسرائیلی اور ایک حصہ محمدی کیونکہ خدا تعالیٰ نے چاہا کہ جیسا کہ آنے والے مسیح کے منصبی کاموں میں بیرونی اور اندرونی اصلاح کی ترکیب ہے یعنی یہ کہ وہ کچھ سیحی رنگ میں ہے اور کچھ محمدی رنگ میں کام کرے (۲۰) گا ایسا ہی اس کی سرشت میں بھی ترکیب ہے۔ غرض اس حدیث امامکم منکم سے ثابت ہے کہ آنے والا مسیح ہرگز اسرائیلی نبی نہیں ہے بلکہ اسی امت میں سے ہے جیسا کہ ظاہر نص یعنی امامکم منکم اسی پر دلالت کرتا ہے اور اس تکلف اور تاویل کے لئے کہ حضرت عیسی علیہ السلام آکر امتی بن جائیں گے اور نبی نہیں رہیں گے کوئی قرینہ موجود نہیں ہے ۔ اور عبارت کا حق ہے که قبل وجود قرینہ اس کو ظاہر پر حمل کیا جائے ورنہ یہودیوں کی طرح ایک تحریف ہوگی ۔ غرض یہ کہنا کہ حضرت عیسی بنی اسرائیلی دنیا میں آکر مسلمانوں کا جامہ پہن لے گا اور امتی کہلائے گا یہ ایک غیر معقول تاویل ہے جو قوی دلائل چاہتی ہے۔ تمام نصوص حدیثیہ اور قرآنیہ کا یہ حق ہے کہ اُن کے معنے ظاہر عبارت کے رو سے کئے جائیں اور ظاہر پر حکم کیا جائے جب تک کہ کوئی قرینہ صارفہ پیدا نہ ہو اور بغیر قرینہ قویہ صارفہ ہرگز خلاف ظاہر معنے نہ کئے جائیں اور امامکم منکم کے ظاہری معنی یہی ہیں جو وہ امام اسی امت محمدیہ میں پیدا ہوگا۔