تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 112 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 112

روحانی خزائن جلد ۱۷ ۱۱۲ اور نہ یہود کا یہ اعتقاد تھا کہ جس کا رفع جسمانی نہ ہو وہ مومن نہیں ہوتا اور ملعون ہوتا ہے اور خدا کی طرف نہیں جاتا بلکہ شیطان کی طرف جاتا ہے۔ خود یہود قائل ہیں کہ حضرت موسیٰ کا رفع جسمانی نہیں ہوا حالانکہ وہ حضرت موسیٰ کو تمام اسرائیلی نبیوں سے افضل اور صاحب الشریعت سمجھتے ہیں اب تک یہود زندہ موجود ہیں اُن کو پوچھ کر دیکھ لو کہ انہوں نے حضرت مسیح کے مصلوب ہونے سے کیا نتیجہ نکالا تھا ؟ کیا یہ کہ اُن کا رفع جسمانی نہیں ہوا یا یہ کہ اُن کا رفع روحانی نہیں ہوا اور وہ نعوذ باللہ اوپر کو خدا کی طرف نہیں گئے بلکہ نیچے کو شیطان کی طرف گئے ۔ بڑی حماقت انسان کی یہ ہے کہ وہ ایسی بحث شروع کر دے جس کو اصل تنازع سے کچھ بھی تعلق نہیں۔ بمبئی کلکتہ میں صد با یہودی رہتے ہیں بعض اہل علم اور اپنے مذہب کے فاضل ہیں اُن سے بذریعہ خط دریافت کر کے پوچھ لو کہ انہوں نے حضرت مسیح پر کیا الزام لگایا تھا اور صلیبی موت کا کیا نتیجہ نکالا تھا کیا عدم رفع جسمانی یا عدم رفع روحانی ۔ غرض حضرت مسیح کے رفع کا مسئلہ بھی قرآن شریف میں بے فائدہ اور بغیر کسی محرک کے بیان نہیں کیا گیا بلکہ اس میں یہود کے ان خیالات کا ذب اور دفع مقصود ہے جن میں وہ حضرت مسیح کے رفع روحانی کے منکر ہیں ۔ بھلا اگر تنزل کے طور پر ہم مان بھی لیں کہ یہ لغوحرکت نعوذ باللہ خدا تعالیٰ نے اپنے لئے پسند کی کہ مسیح کو مع جسم اپنی طرف کھینچ لیا اور اپنے نفس پر جسم اور جسمانی ہونے کا اعتراض بھی وارد کر لیا کیونکہ جسم جسم کی طرف کھینچا جاتا ہے پھر بھی طبعا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ چونکہ قرآن شریف یہود اور نصاری کی غلطیوں کی اصلاح کرنے آیا ہے اور یہود نے یہ ایک بڑی غلطی اختیار کی تھی کہ حضرت عیسی علیہ السلام کو نعوذ باللہ ملعون قرار دیا اور اُن کے روحانی رفع سے انکار کیا۔ اور یہ ظاہر کیا کہ وہ مرکز خدا کی طرف نہیں گیا ہے بلکہ شیطان کی طرف گیا تو اس الزام کا دفع اور ذب قرآن میں کہاں ہے جو اصل منصب قرآن کا تھا کیونکہ جس حالت میں آیت رَافِعك إلى اور آیت بَلْ زَفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ جسمانی رفع کے لئے خاص ہو گئیں تو روحانی رفع کا بیان کسی اور آیت میں ہونا چاہیے اور یہود اور نصاری کی غلطی دور کرنے کے لئے کہ جو عقیدہ لعنت کے متعلق ہے ایسی آیت کی ضرورت ہے کیونکہ جسمانی آل عمران : ۵۶ النساء : ۱۵۹